Saturday, August 15, 2026
 

لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت: تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے 

 



لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت کے معاملے کی  تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹارگٹ کلرز کے گینگ کی نشاندہی ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی کے ٹریکر سے کی گئی،  ملزمان نے ٹریکر کا علم ہونے پر مریدکے کے قریب سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔ پولیس  نے کہا کہ راوی ریان کے علاقے میں ٹارگٹ کلرز نے ایک گھر میں پناہ لی، مصری شاہ میں ٹارگٹ کلر ریحان بٹ کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برامد ہوگئے، ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ  ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے،  پولیس اہلکاروں کے موبائل فونَز کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ شروع کردی گئی، ٹارگٹ کلر ریحان بٹ، فیاض اور طارق نے سب انسپکٹر عدیل اور کانسٹیبل اسد پر فائرنگ کے بعد موبائل فون بند کردیے۔ ملزمان نے لوکیشن ٹریس ہونے سے بچنے کے لیے موبائل فون بند کیے ،  پولیس نے کہا کہ ملزمان کے فرار ہونے والے ساتھی طارق کی تلاش جاری ہے۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلرز کی سہولت کاری کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ، زیر حراست افراد میں مناواں کا رہائشی رکشہ ڈرائیور بھی شامل  ہے۔ شبہ ہے کہ  رکشہ ڈرائیور نے ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک پہنچایا، پولیس  نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور پہلے حملے کے وقت بادامی باغ میں موجود تھا۔ پولیس حکام نے کہا کہ زیر حراست افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں جاری ہیں،  ٹارگٹ کلنگ کے پس پشت نیٹ ورک کے قریب پہنچ چکے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل