Loading
صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس سے واضح ہے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، خالد مقبول صدیقی کا ذہنی دباؤ قابلِ فہم ہے، لیکن اس کا علاج صرف وفاقی وزیرِ صحت کے پاس ہے۔ متحدہ کی خود ساختہ قیادت جب بھی پریس کانفرنس کرتی ہے، شدید ناراض اور فرسٹریٹڈ نظر آتی ہے، یہ فرسٹریشن ان کی سیاسی تنہائی اور سیاسی بے بسی کی عکاسی کرتی ہے۔
ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی خود ساختہ اور نام نہاد قیادت نہ کراچی کے عوام کی منتخب کردہ ہے، نہ ہی حقیقی سیاسی نمائندگی رکھتی ہے۔ متحدہ کی نام نہاد قیادت صوبے کو نہیں، کراچی کے عوام، تجارت، امن اور خوشحالی کو یرغمال بنانے کی بات کر رہی ہے۔ کراچی کے عوام ان کے چہرے اور ماضی کو خوب پہچانتے ہیں، اسی لیے شہریوں نے انہیں مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جو ان کی سوچ، سمجھ، فہم اور سیاسی قد سے بالاتر ہوں۔ فاروق ستار موجودہ متحدہ کے بارہویں کھلاڑی ہیں، جو اب متحد نہیں رہی۔ سندھ تقسیم نہیں ہوگا، لیکن میں متحدہ کو تقسیم ہوتا ہوا ضرور دیکھ رہا ہوں۔
ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ سے ’م‘ اور ’خ‘ الگ ہو جائیں گے، باقی ’ف‘ فیتے کی طرح گھومتا رہے گا۔ متحدہ کے غیر متحد افراد کو سمجھ لینا چاہیے کہ کراچی کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ کراچی کی عوام محبت، بھائی چارے، امن اور ترقی کے سفر کے ساتھ ہیں، اب ان کا متحدہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل