Loading
پشاور ہائیکورٹ نے کوہستان اسکینڈل میں نامزد ملزم مزمل خان کی جانب سے نیب نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روک دیا۔
درخواست پر سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس بابر ستار نے کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل اشفاق احمد داؤد زئی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو کوہستان اسکینڈل میں ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اس کے والد کو بھی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے والد کو پشاور ہائیکورٹ نے ضمانت دی ہے۔ ان کے مطابق والد کے کیس میں ملوث ہونے کے باوجود ضمانت ہوگئی، تاہم اب ان کے بیٹے کو نیب کی جانب سے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو پہلے بھی نیب کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث دوبارہ نوٹس جاری کیا گیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو نیب انکوائری میں شامل ہونے اور نیب کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو درخواست گزار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل