Monday, August 17, 2026
 

وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ

 



وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ قانون کے مطابق جائز قرار دیتے ہوئے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ دے دیا۔ آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ فائلنگ اور کٹوتی پر ملنے والے ٹیکس کریڈٹ سے سپر ٹیکس ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جبکہ عدالت نے نجی موبائل کمپنی (زونگ) کی اپیلیں منظور کر لیں۔ جسٹس عامر فاروق نے 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق قانون کی دفعہ 168 کے تحت حاصل شدہ ٹیکس کریڈٹ ایک الگ اور مسلّمہ قانونی حق ہے، ٹیکس دہندہ کو ایڈجسٹمنٹ سے روک کر صرف ریفنڈ کی طرف دھکیلنا قانون کی منشا کے خلاف ہے، مالیاتی قوانین کی تعبیر ہمیشہ ٹیکس دہندہ کے فائدے اور سہولت کے پیش نظر ہونی چاہیے۔ عدالت نے ایف بی آر کو نوٹس کے جواب میں ٹیکس دہندہ کے ایڈجسٹمنٹ کلیم کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ ایف بی آر نے نجی کمپنی کو سپر ٹیکس کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا جبکہ موبائل کمپنی نے ایڈجسٹمنٹ کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تاہم درخواست خارج کر دی گئی تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل