Monday, August 17, 2026
 

معاہدے کیخلاف ورزی پر امریکا کے ساتھ 60 روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، ایران

 



تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ 18 جون کو ہونے والے مفاہمتی یادداشت کے بعد مقرر کردہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کو غیر متعلق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس ڈیڈ لائن کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں باقاعدہ طور پر 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی شق موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق ایران اپنی پالیسیاں کسی دباؤ، دھمکی، الٹی میٹم یا مقررہ مدت کی بنیاد پر طے نہیں کرتا۔ اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ 18 جون کی مفاہمتی یادداشت میں دو اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے تقریباً 60 دن کا عرصہ زیر غور آیا تھا۔ ان میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری معاملہ شامل تھا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق اگر اس مدت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پاتا تو مذاکراتی مدت میں توسیع بھی ممکن تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے یادداشت پر دستخط ہونے کے چند ہی ہفتوں بعد اس کی سنگین اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی، جس کے باعث مذاکرات شروع ہی نہیں ہوسکے۔ بقائی نے کہا کہ جب مذاکرات کا عمل ہی آگے نہیں بڑھا تو 60 روزہ مدت کی بحث بھی غیر متعلق ہوگئی۔ ان کے مطابق ایران پر کسی مخصوص مدت میں فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں ایران کے خودمختار حقوق سے متعلق موجودہ قوانین پہلے ہی نافذ ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ وزارت خارجہ خطے میں ایران کے حقوق سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق وزارت خارجہ نے اس حوالے سے زیر غور بل پر اپنی ماہرین کی رائے پہلے ہی فراہم کردی ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ بھی اپنی رائے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ زمینی صورتحال اور موجودہ قوانین دونوں کو مدنظر رکھتی ہے، جبکہ ایرانی آئین کے تحت پارلیمنٹ کا مؤقف واضح ہے اور وزارت خارجہ قانون سازی کے تمام مراحل میں پارلیمنٹ کے ساتھ ضروری تعاون کی پابند ہے۔ ایرانی حکومت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے ذریعے عالمی تیل کی بڑی مقدار سمندری راستے سے منتقل ہوتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل