Loading
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تھانہ گولڑہ کی حدود سے اغوأ ہونے والی 7 سالہ بچی کی عدم بازیابی پر پولیس کو 15 دن میں بچی کو بازیاب کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے بچی کی عدم بازیابی سے متعلق والد محمد عابد کی درخواست پر سماعت کی۔ بچی کے والد روسٹرم پر آکر آبدیدہ ہو گئے اور عدالت سے کہا کہ 6 ماہ گزر چکے ہیں لیکن ان کی بچی تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔
والد محمد عابد نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی قسم کی مدد نہیں مل رہی اور ان کی واحد امید عدالت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ہاتھ جوڑ کر انصاف کی اپیل کی جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کے ساتھ ہے اور وہ ہاتھ نہ جوڑیں۔
والد نے مزید کہا کہ 6 ماہ کا قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے اور میرے باقی بچے بھی بھوکے بیٹھے ہیں، پولیس نے مجھے کوئی سپورٹ نہیں کیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پولیس اگلی بار عدالت آئے گی تو بچی ساتھ ہوگی۔
بعد ازاں عدالت نے پولیس کو 15 دن کے اندر بچی کی بازیابی کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل