Loading
سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس کا معاملہ گزشتہ سال جون سے شروع ہوا، گزشتہ سال ان علاقوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کا فیصلہ ہوا تھا جبکہ یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ ہر سال اس میں 2 فیصد اضافہ ہوگا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ابھی بھی یہ شرح ملک کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں بہت رعایتی ہے۔ ماضی میں فاٹا، پاٹا میں ٹیکس رعایت کا بہت غلط فائدہ اٹھایا جاتا رہا۔ ٹیکس نفاذ سے پہلے گزشتہ سال ان علاقوں کے سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا گیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ اس معاملے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے فلور پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ فاٹا اور پاٹا کے رہائشیوں کے مسائل کا حل آج بھی ہماری ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں امن کے لیے ہماری سکیورٹی فورسز بہت قربانیاں دے رہی ہیں۔ حکومت آج بھی فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں سے متعلق تمام فریقین اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے حاضر ہے۔
وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ سے پہلے ان علاقوں کے تاجروں اور دوسرے شہروں کے ایوان صنعت و تجارت کے لوگوں سے تفصیلی مشاورت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، کراچی اور دوسرے شہروں کے تاجروں کو فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس استثنیٰ پر بہت اعتراض ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل