Loading
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 10 پاکستانی صومالی قذاقوں کے قبضے میں ہیں، رہائی کے عوض تین ملین ڈالرز تاوان مانگا گیا اگر تاوان دے کر رہا کروائیں گے تو اس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ارکان نے کورم کی نشاندہی کی جس پر اجلاس کچھ دیر کے لیے معطل کیا گیا۔ بعدازاں قومی اسمبلی اجلاس پینل آف چیئر علی زاہد کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوا۔ پینل آف چیئر نے اراکین کی گنتی کی ہدایت کر دی۔
اجلاس میں صومالین بحری قذاقوں کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے اغوا کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیا کہ دس پاکستانی بحری قذاقوں کے قبضے میں ہیں، صومالیہ کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، صومالین قزاقوں نے ان لوگوں کی رہائی کے عوض تین ملین ڈالرز تاوان طلب کیا ہے اگر تین ملین ڈالرز دے کر رہا کروائیں گے تو اس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کی رہائی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس جگہ صومالی حکومت کی رٹ بھی مضبوط نہیں ہے، بحری قذاقوں کے ساتھ مذکرات کے تین راؤنڈز ہوچکے ہیں، وزارت خارجہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل