Loading
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو جشنِ ولادتِ رسول اکرم ﷺ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے سیرتِ طیبہ ﷺ کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 12 ربیع الاول ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاقِ حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عالم انسانیت کے لیے ایسے روشن دور کا آغاز تھی جس میں جہالت کی تاریکی چھٹی، علم و ہدایت کا اجالا پھیلا، ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا قیام عمل میں آیا جبکہ طبقاتی تقسیم کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اخوت، مساوات اور بھائی چارے کو فروغ ملا۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ کے ذریعے قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انفرادی اور اجتماعی فلاح و نجات کا بے مثال انقلاب برپا کیا۔ ایک صالح معاشرے کے قیام کے لیے اعلیٰ انسانی اقدار، عدل، رحم، احساسِ ذمہ داری، تقویٰ اور پرہیزگاری کو اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ہمیں انسانوں کے درمیان باہمی احترام، خیرسگالی اور حسنِ سلوک کو فروغ دینے کا درس دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کمزور، محروم، یتیم، مسکین اور ضرورت مند افراد کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی زور دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ 12 ربیع الاول کا تقاضا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کا اظہار آپ ﷺ کی سیرت و سنت کو اپنے انفرادی اور اجتماعی اعمال میں اپنا کر کیا جائے۔ بحیثیت امتِ محمدی ﷺ ہمیں معاشرے میں عدل و انصاف، برداشت، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لیتے ہوئے علم، بلند کردار، محنت اور خدمت انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
صدر آصف علی زرداری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ اور پاکستان کے عوام کو رسول کریم ﷺ کی سچی محبت، اتباع اور اسوۂ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی دے اور پوری انسانیت کے لیے خیر و سلامتی کا ذریعہ بنائے۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی 12 ربیع الاول 1448ھ کے موقع پر پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر دلی مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مبنی ایک مکمل اور مثالی ضابطۂ حیات کا پیغام عالم انسانیت تک پہنچایا۔
محمد شہباز شریف نے بتایا کہ اس سال قومی سطح پر عید میلاد النبی ﷺ کو "نسلِ نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں" کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیے سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری جیسی اسلامی اقدار کو ان کی تربیت کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں علم و تحقیق، محنت اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نئی سمت عطا کی۔ مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی کے ذریعے اصلاح کی بنیاد رکھی گئی جبکہ مدینہ منورہ میں عدل و مساوات، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق و فرائض پر مبنی معاشرہ قائم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسوۂ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح، فلاح اور کامیابی کے لیے مشعلِ راہ ہے اور سیرتِ النبی ﷺ ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود بنی نوع انسان کے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے معاشی، معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی زندگی کو سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول ہمیں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کا بھی درس دیتا ہے۔
اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہی اسوۂ رسول ﷺ کے مطابق مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ اس مبارک دن سیرتِ طیبہ کو کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرزِ عمل کا حصہ بنانے اور پاکستان کو مضبوط، خوشحال، پُرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل