Wednesday, August 26, 2026
 

15 بچوں کی ہلاکت؛ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا بیان سامنے آگیا

 



پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے کہا ہے کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کی وجہ سے وارڈ میں داخلہ محدود تھا۔ واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ہوگئے، جس کی اسپتال حکام نے تصدیق کردی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے، تاہم تحقیقات کے بعد اصل وجوہات سامنے آئیں گی، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ ترجمان پمز اسپتال کے مطابق تمام بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دیں گئی ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں آتشزدگی کے وقت عملہ موجود تھا ۔ 2 ڈاکٹرز اور 4 نرسز موجود تھیں ۔ ایک ڈاکٹر نے بچے کی جان بچائی ۔ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کے باعث داخلہ محدود تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فائر سسٹم اسپتال میں موجود ہے ۔ کوئی بھی قصور وار پایا گیا تو کارروائی ہو گی ۔ 24 آکسیجن سلنڈرز موجود تھے ، ریسکیو ٹیم کو آپریشن میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل