Thursday, August 27, 2026
 

امریکا نے برطانیہ میں پابندی کا شکار ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

 



واشنگٹن: امریکا نے برطانیہ میں سرگرم فلسطین ایکشن نامی تنظیم کو ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا ہے۔ امریکی حکومت نے تنظیم کے خلاف پابندیاں بھی عائد کردی ہیں اور الزام لگایا ہے کہ یہ گروپ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکومت نے بدھ کے روز فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ پہلے ہی اس تنظیم پر پابندی عائد کرچکا ہے اور فلسطین ایکشن اس پابندی کے خلاف قانونی کارروائی کررہی ہے۔ فلسطین ایکشن کا قیام 2020 میں عمل میں آیا تھا۔ تنظیم برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کو اپنی سرگرمیوں کا ہدف بناتی رہی ہے، جن میں اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز بھی شامل ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے تنظیم پر پابندی کے بعد اس سے وابستہ افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے برطانیہ کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے ذریعے سیاسی اختلاف اور احتجاج کو جرم قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ امریکی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا عموری نے کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کا مقصد اسرائیلی جنگی مشین کے خلاف کارروائی کرکے جانیں بچانا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے برطانیہ کی پالیسی سے متاثر ہوکر تنظیم کو دہشت گرد قرار دینا آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ فلسطین ایکشن اپنی ویب سائٹ پر اپنے مقصد کو اسرائیل کی پالیسیوں اور غزہ میں جاری جنگ میں عالمی سطح پر تعاون ختم کرنے کی کوشش کے طور پر بیان کرتی ہے۔ تنظیم کو اس وقت زیادہ عالمی توجہ حاصل ہوئی جب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد فلسطین ایکشن نے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی اداروں کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔ امریکی حکومت نے صرف فلسطین ایکشن کے خلاف ہی کارروائی نہیں کی بلکہ بدھ کے روز اٹلی میں قائم ایک اور گروپ Autistici/Inventati کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے بین الاقوامی سطح پر سرگرم گروپ Masar Badil کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ گروپ فلسطین کی پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے لیے ایک فرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ امریکا پہلے ہی پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے تینوں گروپس کو ’’پرتشدد انتہائی بائیں بازو کی دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دیا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا کہ واشنگٹن ان گروپس کے خلاف اپنے معاشی اختیارات کو بھرپور انداز میں استعمال کرے گا۔ دوسری جانب فلسطین ایکشن اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اور اسرائیلی دفاعی صنعت کے خلاف مزاحمت کا حصہ ہیں۔ تنظیم کے خلاف برطانیہ اور امریکا کے حالیہ اقدامات نے آزادی اظہار، احتجاج کے حق اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل