Loading
بالی ووڈ اداکارہ کریتی سنن کے ایک اشتہار میں پہنے گئے قابل اعتراض لباس پر جاری تنازع میں شدت آگئی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب زیورات کے ایک برانڈ نے رکشا بندھن کے موقع پر کریتی سینن کو ایک اشتہار میں پیش کیا۔
اشتہار میں کریتی اپنے بھائی کے ساتھ رکشا بندھن مناتی اور اپنے پالتو کتے کو بھی خاندان کا حصہ قرار دیتی نظر آئیں۔
اشتہار میں کریتی نے انڈو ویسٹرن لباس پہن رکھا تھا جس میں بریلیٹ طرز کا بلاؤز، کیپ اور ڈریپڈ اسکرٹ شامل تھا۔
اشتہار سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے ان کے لباس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے رکشا بندھن جیسے خاندانی اور ثقافتی تہوار کے لیے نامناسب قرار دیا۔
تنازع میں اس وقت مزید شدت آئی جب اداکارہ کنگنا رناوت نے بھی کریتی کے لباس پر طنزیہ تبصرہ کیا تھا۔
جس پر کریتی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہواروں کی اصل روح لباس میں نہیں بلکہ ان سے وابستہ جذبات اور روایات میں ہوتی ہے۔
کریتی نے سوال اٹھایا کہ آخر خواتین کے لباس کو ہی ان کی ثقافت اور عزت کا پیمانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔
اداکارہ کریتی سنن کا مزید کہنا تھا کہ ثقافت اور روایات انسان کے دل میں ہوتی ہیں، صرف لباس یا گلے کی کٹ سے ان کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
اس تنازع اور شدید تنقید کے بعد زیورات برانڈ کے بانی ایشیندرا اگروال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اب بھی اشتہار کے بنیادی پیغام پر قائم ہے تاہم بعض اسٹورز کے باہر صورتحال خراب ہونے اور عملے کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہونے کے باعث اشتہار ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی تنازع کے دوران کرینہ کپور سے ان کی نئی فلم دائرہ کے ٹریلر لانچ کے موقع پر پوچھا گیا کہ کیا اسکرین پر لباس کے انتخاب کے حوالے سے ان کی بھی کوئی حدود ہیں؟
کرینہ سوال سن کر قدرے محتاط دکھائی دیں اور براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ اس موقع پر فلمساز میگھنا گلزار نے بات سنبھالتے ہوئے کہا کہ کسی اداکار کے لباس کا فیصلہ اس کے کردار اور فلم کے ہدایت کار کے وژن کے مطابق ہونا چاہیے۔
میگھنا گلزار نے مزید کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ کسی ایک اداکار سے اس نوعیت کا سوال کیا جائے کیونکہ فلم میں کردار کی نوعیت اور ہدایت کار کی سوچ ہی لباس کے انتخاب کا تعین کرتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل