Loading
اداکار سہیل سمیر نے اپنی شارٹ فلم دوسری عورت کے قابل اعتراض مناظر پر تفصیلی معذرت جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ 10 سال پرانے سین تھے لیکن اب اس کے کچھ سین دوبارہ سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہے ہیں۔
اداکار سہیل سمیر نے کہا کہ یہ کلپ تقریباً 10 سال پرانے منصوبے کا حصہ تھا، یہ ایک شارٹ فلم تھی اور اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ ماضی میں کیا گیا کوئی کام مستقبل میں اس طرح دوبارہ سامنے آسکتا ہے۔
سہیل سمیر نے اعتراف کیا کہ ایسا مواد تخلیق یا کم از کم مجھے اس میں کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس واقعے نے سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر ایسا مواد ان کے اپنے گھر کے کسی فرد سے متعلق سامنے آتا تو وہ کیسا محسوس کرتے۔
اداکار نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگی اور درخواست کی کہ انہیں صرف ماضی کی ایک غلطی کی بنیاد پر نہ پرکھا جائے بلکہ ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جائے جو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل سہیل سمیر کی سسپنس تھرلر شارٹ فلم دوسری عورت کا ایک پرانا کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا تھا۔
منظر میں اداکار سہیل سمیر ایک خاتون کردار کے ساتھ انتہائی قریبی اور رومانوی انداز میں دکھائی دیتے ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔
کئی صارفین نے سوال اٹھایا تھا کہ سہیل سمیر ٹی وی پروگرامز میں اخلاقیات اور معاشرتی اقدار پر گفتگو کرتے ہیں لیکن ان کے ماضی کے اس منصوبے میں اس نوعیت کا منظر موجود ہے۔ بعض صارفین نے ایسے مواد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
سہیل سمیر کی معذرت کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ بعض صارفین نے ان کے معافی مانگنے کے انداز کو سراہا ہے۔
ان کے کچھ ساتھی فنکاروں نے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی انسان غلطیوں سے پاک نہیں تاہم اپنی غلطی تسلیم کرنا اور معافی مانگنا حوصلے کی بات ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل