Loading
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مشہور تفریحی پارک سکس فلیگز میجک ماؤنٹین کی خطرناک سمجھی جانے والی رولر کوسٹر X2 کو دو افراد کے دماغی چوٹوں کا شکار ہونے کے واقعات سامنے آنے کے بعد ایک ماہ سے زائد عرصے کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق دو افراد نے چند روز قبل X2 رولر کوسٹر پر سواری کی تھی اور بعدازاں انہیں سنگین دماغی چوٹوں کے باعث اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اس رائڈ پر سوار افراد تیز رفتاری سے بلندی سے نیچے آتے اور مختلف سمتوں میں گھومتے ہیں جبکہ اس کی رفتار تقریباً 76 میل یعنی 122 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس دوران نشستیں بھی 360 ڈگری تک گھومتی ہیں۔
جولائی میں ہوائی کی رہائشی پامیلا گیلن اپنی بیٹی کے ہمراہ اس رولر کوسٹر پر سوار ہوئیں۔ رائیڈ کے دوران جھٹکوں کے باعث ان کا سر بار بار سیٹ کے ہیڈ ریسٹ سے ٹکرایا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئیں۔
انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سی ٹی اسکین میں شدید سب ڈورل ہیماتوما اور دماغ پر دباؤ کی تشخیص ہوئی۔ واقعے کے بعد سے انہیں سر درد رہتا ہے اور وہ دوروں سے بچاؤ کیلئے ادویات بھی استعمال کر رہی ہیں۔
اس واقعے کے چند روز بعد لاس اینجلس کی رہائشی ناؤمی گریئر ولکنسن بھی اسی رولر کوسٹر پر سوار ہونے کے بعد بے ہوش ہو گئیں۔ انہیں دماغی چوٹ کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا اور وہ تاحال کومے میں ہیں۔
پارک کے ترجمان کے مطابق X2 رولر کوسٹر 12 جولائی سے بند ہے جبکہ انتظامیہ نے دونوں خواتین سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ماضی میں بھی حادثات کے الزامات
تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران X2 پر سواری کے بعد متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ دو افراد کی موت کے واقعات بھی اس رائیڈ سے منسلک کیے گئے ہیں۔
سکس فلیگز کو ماضی میں بھی اس رولر کوسٹر سے متعلق قانونی کارروائیوں کا بھی سامنا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل