Loading
جوڈیشل کمیشن میں ڈاکٹر اسامہ شیخ نے بیان دیا کہ انہوں نے 2016 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا اور 2021 میں جناح اسپتال جوائن کیا۔ وہ پولیس سرجن اور میڈیکولیگل فرائض ادا کرتے تھے۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا آپ نے کسی بڑے سرکاری اسپتال میں ٹریننگ لی تھی؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ نہیں، انہوں نے کسی سرکاری اسپتال میں ٹریننگ نہیں لی، تاہم بطور پولیس سرجن دو سالہ کورس مکمل کیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔
تصاویر اسکرین پر چلائی گئیں، جس کے بعد جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر اسامہ سے سوالات کیے اور ان کی رپورٹ بھی دکھائی گئی۔ جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر اسامہ پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے جو سوال کیا جائے اس کا جواب دیں، ادھر ادھر کی بات نہ کریں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن میں نے آپ سے زیادہ کرائم کی رپورٹس دیکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے مطابق ایک ہاتھ درست تھا؟ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ انہوں نے مارچری میں لاش دیکھی تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے تھے۔ جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مارچری میں پلاسٹک سرجری ہوگئی تھی؟
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک گولی کا نشان دیکھا، اس کے علاوہ لاش پر کوئی نشان نہیں تھا، ہڈی ٹوٹنے یا فریکچر کا نشان نہیں تھا۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ نے کس بنیاد پر کہہ دیا کہ لاش 36 گھنٹے پرانی ہے؟ نوجوان 27 کو غائب ہوا، 29 کو لاش مل گئی تھی۔ آپ نے کیسے لکھ دیا کہ لاش دو سے تین دن پرانی ہے؟ آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لاش کتنی پرانی ہے۔ آپ کو پولیس افسر بتاتا ہے کہ لاش کتنی پرانی ہے۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ نے کون سے نمونے حاصل کیے تھے؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ باڈی سے شرٹ، جگر، پھیپھڑے اور معدے کے حصے اور خون کے نمونے لیے تھے، یہ تمام نمونے سب انسپکٹر ندیم مغل کو دیے تھے۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ نے کیسے خودکشی قرار دی؟
جوڈیشل کمیشن میں 15 کی کال کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکاروں سے بھی سوالات کیے گئے۔ جسٹس عمر سیال نے سب انسپکٹر حنیف اور کانسٹیبل وکٹر سرفراز سے پوچھا کہ جب لاش دیکھی تو کیا لگا اور کیا ہاتھ لگا کر دیکھا تھا۔
اے ایس آئی اظہر عباس نے بتایا کہ وائرلیس پر اطلاع ملی تھی، وہ موبائل پر گئے، لاش دیکھ کر تصاویر بنائیں اور ایس ایچ او کو بھی اطلاع دی۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ آپ نے مشیرنامہ بنایا تھا؟ اے ایس آئی نے جواب دیا کہ نہیں، انہوں نے ایس ایچ او اور ڈیوٹی افسر کو اطلاع دی تھی۔
اے ایس آئی اظہر عباس کے مطابق 10 منٹ کے بعد ہیڈ محرر زیشان پہنچ گئے۔ تلاش والے پہنچے تو ایس ایچ او نے انہیں گیسٹ ہاؤس جانے کا کہا، جہاں جھگڑا ہورہا تھا۔ اے ایس آئی اظہر عباس نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس پہنچا تو وہاں فیملی موجود تھی۔
کانسٹیبل عارف نے بیان دیا کہ وہ تلاش گروپ میں ایک بجکر 30 منٹ پر پہنچا تھا۔ وہ لاش کے انگوٹھوں کے نشان نہیں لے سکا۔ گواہ کے مطابق دائیں ہاتھ کی انگلیاں ایسی تھیں جیسے ہاتھ لگایا تو ماس اتر جائے گا، الٹا ہاتھ ڈیمج تھا اور فنگر پرنٹ لینے کی کئی بار کوشش کی۔ ہیڈ محرر کو صورتحال بتائی تو انہوں نے تصاویر لینے کا کہا۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ یہ ہیڈ محرر کون ہے، نام کیا ہے؟ گواہ نے بتایا کہ ہیڈ محرر کا نام زیشان ہے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہ ہیڈ محرر کیا چیز تھا، وہی چلا رہا تھا، تفتیش بھی وہی کررہا تھا۔
جسٹس عمر سیال نے گواہ سے کہا کہ آپ مجھے کرکٹر شاداب خان جیسے لگ رہے ہو، اپنا موبائل جمع کرادو شاداب خان۔ انہوں نے گواہ سے سوال کیا کہ تجربے سے بتاؤ کہ جائے وقوعہ پر کیا لگ رہا تھا؟ گواہ نے جواب دیا کہ لگ رہا تھا کہ جلا ہوا ہے۔ گواہ کے مطابق ڈاکٹر کو نظر نہیں آیا کہ جلا ہوا ہے، باقی سب کو نظر آگیا کہ جلا ہوا ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے جو بات کررہے تھے وہ سب سامنے آرہی ہے۔ ڈاکٹر سمیہ جب یہاں آئیں گی تو پھر سب کچھ واضح ہوگیا تھا۔
جبران ناصر نے کہا کہ یکم اگست کو پولیس سرجن کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ گولی سامنے سے چلی تھی۔ وزیر اعلیٰ کو خط لکھا تھا کہ ایم ایل او کو گرل کیا گیا تھا، وہ بھی آپ کے دفتر میں۔ مجھے یہ بتائیں کہ کبھی کسی خودکشی میں ایسا کبھی ہوا کہ ایم ایل او کا بیان لیا جارہا ہو وزیر اعلیٰ کے دفتر میں۔
جبران ناصر نے کہا کہ آزاد خان کو پوچھیں کہ کیوں 9 اگست کو وزیر اعلیٰ کے دفتر بلایا گیا تھا۔ جہاں سے لاش ملی وہاں بھی ہیڈ محرر ہی صرف کام کررہا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل