Loading
پاکستان میں نیم جمہوری حکومتوں کی عجیب تاریخ ہے۔ دو سے تین برس مکمل ہونے پر حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جانے لگتی ہیں۔ ملک میں 2024میں انتخابات ہوئے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے نیا سیاسی ڈھانچہ ترتیب دیا۔ میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہوئے، آصف زرداری صدر بن گئے ۔ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں نئے قوانین کی منظوری میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بناء پر گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس میں سب سے زیادہ پوائٹ آف آرڈر اٹھائے گئے۔
اب بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی، یہ باضابطہ ملاقات برسوں بعد ہوئی۔ بلاول بھٹو نے اس ملاقات میں درخواست کی کہ اپوزیشن پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آجائے۔ بلاول نے اس موقعے پر ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اگر ایک پیج پر ہیں تو بھی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے تحفظات دور نہ کیے تو حکومت سے تعاون نہیں کریں گے، مگر پیپلز پارٹی نے دفاعی امور سے متعلق ایک قانون کی منظوری میں حکومتی بینچوں سے مکمل طور پر تعاون کیا۔
ماضی کے مقابلے میں اس دفعہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تعلقات خاصے حد تک بہتر رہے۔ پیپلز پارٹی کے مطالبے پر حکومت نے کئی اعلانیہ فیصلے منسوخ کیے ،ان میں جنوبی پنجاب میں کینال کی تعمیر کے علاوہ سندھ میں ایم کیو ایم کے گورنر کو ہٹانے اور بیوروکریسی کے افسروں کی ترقی کے معاملات بھی شامل ہیں مگر وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی ناکامی سے متعلق اعلان اور نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کے بعد پیپلز پارٹی کو یہ احساس ہونا شروع ہوا کہ ہواؤں کا رخ کچھ تبدیل ہورہا ہے، اگرچہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو انتخابات میں کامیابی کا موقع دیا گیا، پیپلز پارٹی کو یہ امید بھی تھی کہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
اس کے لیے بلاول بھٹو نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی کی، اور انھوں نے اپنا موقف مسلم لیگ ن کے قریب کرلیا اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اپنا احتجاج نہ صرف ختم کریں بلکہ قانون کو مطلوب افراد کو پولیس کے حوالے کرنے کا مشورہ بھی دیا، اس کے باوجود اس دفعہ کشمیر کی حکومت پیپلز پارٹی کو نہیں ملی۔اس دفعہ قرعہ فال مسلم لیگ ن کے حق میں نکلا مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس طرح کی صورتحال کی امید نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو مسلم لیگ ن کی 2024کے انتخابات میں فارم 47 کے ذریعہ کامیابی اچانک نظر آنے لگی۔ وہ یہ بات بھول گئے کہ اس فارم 47 والی قومی اسمبلی ،سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں نے آصف زرداری کے لیے ایک دفعہ پھر ایوان صدر کے دروازے کھول دیے تھے۔
جب پیپلز پارٹی کی قیادت کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا تو سب سے پہلے ایوانِ صدر نے جوڈیشل کمیشن کی ججوں کی تقرری کی سمری کو 15 دن سے زیادہ عرصہ روکے رکھا تو سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے اس موضوع پر انگریزی اخبار میں اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ آئین کے تحت جوڈیشل کمیشن کی سفارش کو کسی صورت روکنے کا اختیار نہیں ہے، بہرحال ججوں کے نوٹیفکیشن کا اجراء ہو ہی گیا۔ پہلی دفعہ بلاول بھٹو نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حق کی حمایت میں ایک بیان بھی دیا۔ سیاسی مبصرین میں سے کچھ کی رائے ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی زیادہ عرصے تک ایک دوسرے سے خفا نہیں رہ سکتیں۔ دونوں جماعتوں کے آپسی تعلقات پھر سے معمول پر آجائیں گے اور اگلے انتخابات تک دونوں جماعتوں کے درمیان ہلکا پھلکا جھگڑا چلتا رہے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ ن کے قیادت کے پیپلز پارٹی کے ساتھ جس ناروا سلوک کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے پاس مسلم لیگ ن کی قیادت کے منفی رویے کے بارے میں خاصی شہادتیں موجود ہیں تو پھر انھیں بنیادی فیصلوں کی طرف جانا چاہیے اور انھیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس صورتحال میں آصف زرداری کو اب ایوانِ صدر کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے۔ اس وقت سب سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان کی ہے، اگرچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انھیں صوبے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کرنے والی قوتیں اور ہیں۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کو بلوچستان کی حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔
سندھ اسمبلی کو سندھ میں ایک بااختیار نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام فوری طور پر قائم کرنا چاہیے۔ اس نظام میں بلدیاتی اداروں کو مکمل انتظامی اور مالیاتی اختیارات ملنے چاہئیں ۔ اس مقصد کے لیے پیپلزپارٹی کی قیادت کو سندھ میں کام کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کرنے چاہئیں۔ سندھ حکومت میں کرپٹ افسروں اور سیاسی رہنماؤں کی فوراً چھٹی ہوجانی چاہیے۔
اس وقت عوام بجلی اور پیٹرول کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود مہنگائی کم نہیں ہورہی۔ اسی طرح ہزاروں نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگاری کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو سندھ میں ایک شفاف نظام قائم کر کے ان نوجوانوں کو اپنی جماعت کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں پبلک اسپیس کم ہورہی ہے۔ ملک میں ایک گھٹن کی کیفیت محسوس ہوتی ہے، گو کہ پیپلز پارٹی نے ان قوانین کی منظور ی میں کردار ادا کیا ہے جو بنیادی حقوق پر قدغن لگاتے ہیں۔
کچھ نئی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں کی خبروں میں خاصی تیزی ہے۔ تحریک انصاف کے بانی کو اگر اسپتال منتقل کردیا گیا اور وہاں ملاقاتوں کی اجازت مل گئی تو پھر ایک نئی صورتحال سامنے آئے گی، مگر دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر متحدہ حزب اختلاف قائم کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک ان کی تحریک جاری رہے گی، مگر مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کو حزبِ اختلاف کے اس اتحاد میں شامل کرنے سے واضح طور پر منع کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی جماعت ہے۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں یہ خبرگردش کرتی رہی کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر صدر زرداری اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے مگر دیگر مبصرین صدر کے مستعفی ہونے کی بات سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم اب پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت دو راستے ہیں۔ ایک طرف اقتدار کی کشش ہے اور دوسری طرف عوامی جذبات پر بننے والی تحریک ہے، اگر اقتدار کی کشش کی طرف پیپلز پارٹی چلی گئی تو اس کی عوام میں ساخت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی اور اس کے ساتھ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس نظام کے تحت جو بھی وزیر اعظم بنے گا ،اس کے اختیارات وزیر اعظم شہباز شریف کے اختیارات سے بھی کم ہوںگے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل