Loading
نارووال کے گاؤں سراج میں تاریخی ہندو مندر سے متعلق میڈیا رپورٹ کا سچ سامنے آگیا جب کہ صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ 100 سالہ قدیم ہندو مندر مسمار کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، بارش سے عمارت کو نقصان پہنچا۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ نارووال مندر کی زمین کبھی کسی کو لیز پر نہیں دی گئی، مندر کی خستہ حال عمارت کی فوری بحالی اور مرمت کے لیے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹ میں الزام، دعوے اور حقیقت کا فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ مذہبی عبادت گاہوں جیسے حساس معاملات پر بغیر تصدیق خبر چلانا غیر ذمہ دارانہ ہے، ایذا رسانی کا من گھڑت بیانیہ بین المذاہب ہم آہنگی اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ صحافتی برادری حساس مذہبی امور پر خبر شائع کرنے سے قبل تصدیق کو یقینی بنائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کی محافظ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت پنجاب بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کی ماسٹر پلاننگ جاری ہے۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ صوبے بھر میں 50 گردوارے، 15 مندر اور 100 سے زائد گرجا گھروں کی بحالی پر کام جاری ہے، اقلیتوں کی مقدس جگہوں کا تحفظ اور تقدس حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل