Wednesday, September 02, 2026
 

انکم ٹیکس رولز میں نئی ترامیم کی تیاری، تنازع حل کرنے والے افسران کو 5 لاکھ تک الاؤنس ملے گا

 



وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کی تجویز دیتے ہوئے مسودہ جاری کردیا ہے، مجوزہ تبدیلیوں میں متبادل تنازعات کے حل کے طریقہ کار سے متعلق قواعد میں بھی ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری مجوزہ رولز کے مطابق ٹیکس تنازع کے متبادل حل کے لیے درخواست مقررہ فارم پر ایف بی آر کو جمع کرانا ہوگی۔ درخواست کے ساتھ ٹیکس دہندہ کے نامزد نمائندے کی تفصیلات اور متبادل تنازعات کے حل کے لیے تین ریٹائرڈ ججوں کے نام بھی دینا ہوں گے۔ مسودے میں پانچ کروڑ روپے تک کے متنازع ٹیکس کی صورت میں کمیٹی کے چیئرپرسن کے لیے 3 لاکھ روپے جبکہ ہر رکن کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ کروڑ روپے سے زائد کے تنازع میں چیئرپرسن کو 5 لاکھ اور ہر رکن کو ڈھائی لاکھ روپے معاوضہ دینے کی تجویز ہے۔ چیئرپرسن اور ارکان کو بی پی ایس 22 اور بی پی ایس 21 کے افسران کے برابر سفری اور یومیہ الاؤنس دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت یکساں نوعیت کے متعدد معاملات کو یکجا کرکے ان پر مشترکہ کارروائی کی جاسکے گی۔ کمیٹی تحلیل ہونے کی صورت میں پہلے سے جمع یا ادا کی گئی رقم 15 روز کے اندر واپس کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق کمیٹی کے کسی رکن یا چیئرپرسن کو مفاداتی ٹکراؤ کا سامنا ہو تو اسے سات روز کے اندر ایف بی آر کو آگاہ کرنا ہوگا۔ معاوضہ جاری یا ادا ہونے کے بعد رکن یا چیئرپرسن حتمی فیصلے تک کارروائی سے الگ نہیں ہوسکے گا۔ ایف بی آر نے مجوزہ ترامیم پر اعتراضات اور تجاویز طلب کرلی ہیں، جو سات روز کے اندر جمع کرائی جاسکیں گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل