Wednesday, September 02, 2026
 

نیو یارک: کتے کی خاطر خریدا گیا 18 لاکھ ڈالر کا گھر فروخت کے لیے پیش

 



امریکی ریاست نیویارک میں ایک جوڑے نے اپنے پالتو کتے کی خاطر کروڑوں روپے مالیت کا گھر خرید کر اسے اس کی ضروریات کے مطابق ڈھال دیا، مگر اب یہی عالیشان گھر 2.9 ملین ڈالر میں فروخت کیلئے پیش کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہاورڈ اور سوز روبن نے 2019 میں نیویارک کے علاقے پاؤنڈ رج میں 18 لاکھ 25 ہزار ڈالر میں ایک گھر خریدا تھا۔ تقریباً 5 ہزار مربع فٹ پر مشتمل یہ گھر 2.76 ایکڑ رقبے پر قائم ہے اور اس میں چار بیڈروم ہیں۔ جوڑے نے یہ گھر اپنے پیارے بیئرڈڈ کولی کتے ’بسٹر‘ کیلئے خریدا تھا کیونکہ وہ فلوریڈا کی شدید گرمی اور نمی سے پریشان رہتا تھا۔ گھر خریدنے کے بعد روبن خاندان نے تقریباً 20 لاکھ ڈالر مزید خرچ کرکے تزئین و آرائش کی اور اسے ’بسٹرز ریٹریٹ‘ کا نام دے دیا۔ بسٹر کی سہولت کےلیے گھر میں خصوصی انتظامات کیے گئے، جن میں سوئمنگ پول میں دو ’سن شیلف‘ بھی شامل ہیں تاکہ کتا آرام سے پانی میں بیٹھ سکے۔ گھر کے باہر مصنوعی گھاس اور باڑ سے گھرا خصوصی کھیل کا میدان بھی بنایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر میں نو ٹیلی ویژن بھی نصب کیے گئے تاکہ بسٹر اپنا پسندیدہ کارٹون ’پاؤ پیٹرول‘ دیکھ سکے۔ پول کے بارے میں ہاورڈ روبن کا کہنا ہے کہ بسٹر تیرتا نہیں، جبکہ وہ خود بھی اسے استعمال نہیں کرتے، گویا یہ سہولت مکمل طور پر کتے کے نام ہے۔ جوڑے نے نیویارک میں بسٹر کیلئے اپنی زندگی نئے انداز سے ترتیب دی، تاہم سوز روبن کو کچھ عرصے بعد فلوریڈا کی یاد ستانے لگی۔ چنانچہ خاندان نے دوبارہ فلوریڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور ’بسٹرز ریٹریٹ‘ کو مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کردیا۔ اب اس گھر کی قیمت 29 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سیلی سلیٹر کے مطابق گھر میں پہلے ہی وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی جاچکی ہیں، اس لیے خریدار کو فوری طور پر بڑی تزئین و آرائش کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس گھر کی کہانی محض مہنگی جائیداد کی نہیں بلکہ ایک پالتو جانور کے لیے مالکان کی غیر معمولی محبت کی بھی عکاس ہے۔ روبن خاندان نے گھر خریدنے اور اس کی تزئین و آرائش پر مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ 25 ہزار ڈالر خرچ کیے جبکہ اب اسے 29 لاکھ ڈالر میں فروخت کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ یعنی بسٹر کیلئے تیار کیا گیا یہ شاہانہ گھر اب کسی نئے مالک اور شاید کسی نئے پالتو جانور کا ’ریٹریٹ‘ بننے کا منتظر ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل