Wednesday, September 02, 2026
 

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

 



چین کے صدر شی جنپنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے کے لیے نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دیں اور اپنے معاملات میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر شی جنپنگ نے یہ بات قاہرہ میں اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران کہی۔ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جنپنگ نے مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی، جانبداری اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کرنے پر بھی زور دیا۔ فلسطین مسئلے کو نظرانداز نہ کیا جائے صدر شی جنپنگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مشترکہ سلامتی کے لیے ایک جامع حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ مسئلۂ فلسطین خطے کے تنازع کا بنیادی مرکز ہے اور اسے نظرانداز یا پسِ پشت نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں دہرے معیار ترک کریں اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کا یکساں اطلاق یقینی بنائیں۔ چینی صدر نے کہا کہ خطے کے عوام کو اپنے معاملات کا خود مالک ہونا چاہیے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی طور پر اچھے ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرتے ہوئے اپنی سلامتی کا نیا ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں نئے سیکیورٹی سسٹم کیلیے 4 نکاتی تجویز صدر شی جنپنگ نے خطے میں نئی سیکیورٹی تشکیل دینے کے لیے چار نکاتی تجویز بھی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو سلامتی کے حوالے سے اپنے اندرونی محرکات کو بروئے کار لانا چاہیے۔ علاوہ ازیں سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اور جامع طریقہ کار اختیار کیا جائے اور خطے کے استحکام کے لیے اقتصادی و ترقیاتی بنیادیں مضبوط کی جائیں جس کے لیے عالمی برادری کے درمیان بین الاقوامی رابطہ اور تعاون بڑھایا جائے۔ آبنائے ہرمز اور عالمی تجارت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں چینی صدر نے بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انھوں نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔  آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم تشویش بن چکی ہے۔ امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے۔ چین اور مصر کے تعلقات میں مزید پیش رفت خیال رہے کہ صدر شی جنپنگ کا مصر کا موجودہ دورہ ایک دہائی بعد ہو رہا ہے۔ ان کے دورے کا ایک اہم پہلو چین اور مصر کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا بھی ہے۔ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں انفرااسٹرکچر، توانائی، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ مصر کی اسٹریٹجک اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ بحیرۂ احمر اور نہر سویز کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں کے ایک اہم مقام پر واقع ہے۔  مصر اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کو بھی 70 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے 1956 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جبکہ 2014 میں تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھایا گیا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل