Loading
امریکی ریاست نیویارک کے علاقے اسٹیٹن آئی لینڈ میں ایک شخص پر گھر سے چند قدم کے فاصلے پر آسمانی بجلی گر گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی شہری تھامس فہمی دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے اپنے گھر سے نکلا تھا اور اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا جبکہ طوفان کے ساتھ تیز بارش جاری تھی۔
گھر کی دہلیز سے تھوڑی دور کے فاصلے پر اچانک آسمانی بجلی چھتری تھامے تھامس فہمی پر گر گئی اور وہیں زمین پر گر پڑے۔ یہ ہولناک منظر دروازے پر نصب ڈور بیل کیمرے میں محفوظ ہوگیا۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی آسمان سے آگ کا جھونکا آتا ہے اور تھامس کے ہاتھوں میں تھامی چھتری سے ٹکراتا ہے اور وہ زمین پر گر جاتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے چند سیکنڈ بعد اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
Doorbell camera captures dramatic moments when a New York man is struck by lightning pic.twitter.com/QJ4lTyiSkQ
— Interesting things (@awkwardgoogle) September 2, 2026
تھامس فہمی نے بتایا کہ بجلی کا جھٹکا پورے جسم میں پھیل گیا تھا اور انہیں شدید جھنجھناہٹ، سن ہونے، درد اور جلن کا احساس ہوا تھا۔ یہ زندگی کا انتہائی شدید جلنے والا احساس تھا۔
خوش قسمتی سے فہمی بے ہوش نہیں ہوئے۔ پڑوسی نے انہیں اسپتال منتقل کیا جہاں وہ 24 گھنٹے ڈاکٹرز کی نگرانی میں رہے۔ ان کی حالت اب بالکل ٹھیک ہے اور گھر جانے کی اجازت دیدی گئی۔
تھامس فہمی نے لوگوں کو زندگی سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کبھی مسکرائیں، تازہ ہوا میں سانس لیں اور مشکلات کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ واقعے کے اگلے روز تھامس نے میگا ملینز لاٹری کا ٹکٹ بھی خریدا۔
امریکا میں بجلی گرنے کے واقعات
امریکا میں حالیہ عرصے کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بعض افراد جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ فلوریڈا میں ایک شخص جیٹ اسکی چلاتے ہوئے بجلی گرنے سے ہلاک ہوگیاتھا۔
اسی طرح مارگیٹ میں ایک خاتون اور اس کا کم عمر بچہ بھی بجلی کی زد میں آ گئے تھے جبکہ الینوائے میں جھیل سپیریئر کے قریب کیمپنگ کے دوران ایک ماں اور اس کا بیٹا بجلی گرنے سے شدید جھلس گئے تھے۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق امریکا میں ہر سال تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ مرتبہ بجلی زمین سے ٹکراتی ہے تاہم کسی ایک فرد کے بجلی کی زد میں آنے کا امکان 10 لاکھ میں ایک سے بھی کم ہے۔ تقریباً 90 فیصد افراد زندہ بچ جاتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل