Loading
وفاقی حکومت اسلام آباد کے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پھر متحرک ہوئی ہے اور 12 ستمبر کو آرڈیننس کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل زیر التوا بل کو قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا جہاں مجوزہ قانون میں موجودہ نظام ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد کے حوالے سے جاری آرڈیننس ختم ہونے میں صرف 9 روز باقی رہ گئے ہیں اور6 ماہ سے قائمہ کمیٹی میں زیر التوا بل اچانک حرکت میں آگیا ہے اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کو قائمہ کمیٹی داخلہ کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے۔
آرڈیننس کی آئینی مدت 12 ستمبر کو ختم ہو گی اور مدت ختم ہونے سے 9 روز قبل بل ایجنڈے میں شامل ہوگیا ہے، اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس کل پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔
یاد رہے کہ مذکورہ آرڈیننس 12 جنوری کو جاری ہوا تھا جبکہ 12 مارچ کو بل کی شکل میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا گیا، آرڈیننس کی آئینی مدت 12 ستمبر کو ختم ہو گی اور مدت ختم ہونے سے محض 9 روز قبل بل ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت صدارتی آرڈیننس کی مدت 120 روز مقرر ہے۔
اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کے مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد کا موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم کرنے کی تجویز ہے، میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ اسلام آباد میں نیا ٹاؤن کارپوریشن فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز ہے، اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کے مطابق 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد کے ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 ڈپٹی میئرز ہوں گے، تمام یونین کونسل چیئرمین ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبرز ہوں گے، ہر ٹاؤن کارپوریشن میں 8 مخصوص نشستیں رکھنے کی تجویز ہے۔
اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں مخصوص نشستوں میں 4 خواتین، کسان و مزدور، نوجوان، تاجر اور غیر مسلم کی ایک ایک نشست شامل ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل