Saturday, September 12, 2026
 

20 ستمبر کو چاروں طرف سے اسلام آباد پہنچیں گے، حافظ نعیم الرحمان

 



جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دھرنے اور احتجاج جاری ہے جبکہ 20 ستمبر کو چاروں اطراف سے اسلام آباد پہنچیں گے اور ریلیف لے کر جائیں گے۔  لیاقت باغ راولپنڈ میں جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے 5 آئی پی پیز بند ہوئے، بجلی کی قیمت میں کمی ہوئی، وہ عوام کی تحریک کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ہماری جدوجہد ہے اور ہم ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر غریبوں اور مظلوموں کے لیے نکلے ہیں، ہم اشرافیہ کے خلاف اور عوام کے لیے نکلے ہیں اور اس عظیم جہاد میں شریک لوگ کسی بارش آندھی کو نہیں دیکھتے، ہم نے جس مسئلے کو اٹھایا ہے اس کو نتیجہ خیز بنائیں گے اور حکمران جتنی ٹال مٹول کریں ہم مسئلہ حل کریں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گزشتہ دھرنے پر مذاکرات نہ کرنے پر تیار تھے معاہدہ کرکے گے، آج بھی کہتے ہیں ریلیف دینا ہوگا، آپ نظام خراب کرکے ریلیف دیں گے یا اس کے بغیر، اس وقت مافیا حکومت ہے، لیوی بھتہ لی جا رہی ہے، ریفائنریاں بھی پیسے بٹور رہی ہیں، آئیل کمپنیاں بھی ناجائز منافع کما رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بھتے اور ناجائز ٹیکسوں سے عام شہری متاثر ہو رہا ہے، 130 روپے ٹیکس حکومت وصول کررہی ہے، حکومت کہتی ہے لیوی ختم نہیں کرسکتے کیونکہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کہتا ہے مگر دوسری طرف حکمرانوں کے اخراجات کتنے ہوں، اگر مریم نواز اور شہباز شریف نے ذاتی اخراجات کیے تو ان کا بھی حساب دو، پتا چلے تمہاری آمدنی کہاں سے ہوگئی، انکم ٹیکس گوشوارے نہیں بتائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ مریم نواز راولپنڈی ڈویژن میں سب سے زیادہ  52 فیصد بچے فیل ہوئے ہیں، سرکاری اسکولوں کو آپ نے تباہ کر دیا، سییبلس کا تعین نہیں ہو رہا ہے، سرکار اور پرائیویٹ اداروں کا ایک معیار ہو نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں یکساں نظام تعلیم ہے، اچھی تعلیم اچھی فیس دینا ہوگی، غریبوں کے پاس وسائل نہیں، سرکار کی ذمہ داری ہے معیاری تعلیم دے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں کوئی اسکول ایسا نہیں جہاں کوئی بلاول کو پڑھانے کو تیار ہو، پنجاب کا اچھا معیار اچھا تاثر ہے مگر شریف خاندان نے ڈرامہ بازی کرکے نظام تباہ کر دیا، 11 ہزار تعلیمی ادارے فروخت کردیے، اس کا حساب دینا ہوگا، دانش اسکول کے لیے وفاق سے فنڈ آتا ہے، آپ کی کوئی تعلیمی پالیسی نہیں، مڈل کلاس غریب بچوں کو کیسے پڑھائیں گے، صحت کے نظام کا برا حال ہے، پمز سلام آباد میں کیا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی پر طرح طرح کے ٹیکس لگا دیے گئے ہیں، ایسے آئی پی پیز موجود ہیں جہاں بجلی نہیں بنتی مگر کیپسٹی پیمنٹ کرتے ہو، یہ بجلی ٹیکس بھتہ خوری ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت 40 مقامات پر دھرنے جاری ہیں، 20 ستمبر کو چاروں طرف سے اسلام آباد پہنچیں گے، تمہں عوام کو ریلیف دینے پر مجبور کردیں گے، لیوی ختم کرکے ٹیکس کیسے لانا اپنے دانش وروں سے پوچھو ، جماعت اسلامی نے تجاویز دی ہیں جس سے ٹیکس کم ہو سکتے ہیں، ہم نے وقت کیا موقع بھی دیا، ان کا خیال تھا دھرنے ختم ہو جائیں گے مگر دھرنے کا جوش وخروش بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کے پاس ہمارے سوالوں کا جواب نہیں تھا، ہم سے کہا گیا اسلام آباد مارچ روک دیں ہوسکتا ہم روک دیتے، مگر اسی رات پھر پیٹرول پر ٹیکس بڑھا دیا یہ عوام کی توہین کی، ہر کوئی پریشان ہے، یہ رائیڈرز، میڈیا والا، مزدور، کسان، خواتین سب پریشان ہیں اور ہمارا دھرنا انہی پریشان حال لوگوں کے لیے ہے، تم نے ہماری اور عوام کی توہین کی ہے، تمہیں اسلام آباد آکر بتائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روک سکتے ہو تو روک لو کنٹینر لگا لو، اپنا حق لینا جانتے ہیں، مری روڈ کو یاد رکھو، ہم ان سیاسی جماعتوں کی طرح نہیں جن کی سیاست شخصیات پر گھومتی ہے، تم ڈیل کرکے گئے اور واپس آئے، تم تصور نہیں کرسکتے ہم کیا کریں گے، اگر بات کرنی ہے تو لیوی بھتہ ختم کرو کیونکہ اس کا تعلق عالمی مارکیٹ سے نہیں ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بے کار باتیں نہ کریں، عالمی مارکیٹ کی بات نہ کرو اور لیوی بھتہ ختم کرو، لیوی کا بھتہ 1568 ارب عوام سے جمع کیا ہے، سود بھی ہم پر لازم کر رکھا ہے جو اللہ سے جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گیارہ ساڑھے گیارہ فیصد سود کا نظام لاگو ہے، اگر سود تین فیصد کم کر دو تو لیوی لینے کی ضرورت نہیں رہے گی، اگر یہ بھتہ لیوی اور سود کم نہیں کرتے تو حکومت گرانے کی تحریک چلے گی، پالیسی ریٹ کم کرو تو لیوی ختم ہوجائے گی۔ حکمرانوں سے انہوں نے کہا کہ اپنی عیاشیاں کم کرو 1300 سی سی پر کیوں نہیں بیٹھ سکتے، فوج، بیورو کریٹ، سیاست دان اور وزیر اب 1300 سی سی پر آئے ہیں کیا تم مر نہیں جاؤ گے، لوگ چنگچیوں پر دھکے کھا رہے ہے تم 1300 سی سی پر نہیں بیٹھ نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے گورنر ہاؤسز کے کتنے اخراجات ہے، قوم نے موقع دیا تو گورنر ہاؤس اور وزیر ہاؤس یونیورسٹیوں میں بدلیں گے، پولیس کے محکمے میں کتنی اصلاحات کیں، ان سے صرف پروٹوکول لیتے ہو، پیرا فورس بنا کر ظلم کرتے ہو، تم نے حبیب جالب کی بیٹی کو نہیں چھوڑا ، عوام نے اگر پیرا فورس بنالی تو تمہیں راستہ نہیں ملے گا۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ جو بجلی بنتی نہیں اس کی ادائیگی بھی قوم برداشت کرتی ہے، یہ ظلم کا نظام ہے، ایک پٹرولیم لیوی نہیں ہر ظلم مٹائیں گے، غریب کے لیے چینی، آٹا مہنگا مگر ان کےی کمپنیوں کے ٹیکس ختم ہو جاتے ہیں، آٹا، چینی اور آئی پی پیز مافیا ہو، بینک کے مالکان سود کا نظام چلاتے ہیں، قوم کی جیبوں سے بینکوں والے مال نکالتے ہیں، قوم کو نکلنا پڑے گا اور انقلاب کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روز گار اور تعلیم چاہیے، اس میں رکاوٹ حکمران طبقہ ہے، حکمران طبقے کو ٹھڈے مار کر نکالنا ہوگا، اب ان جاگیرداروں اور وڈیروں سے حساب لینے کا وقت آگیا ہے، لوگ مایوس نہ ہو جائیں دھرنے بھی ہوں گے اور اسلام آباد مارچ بھی ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شیلنگ کریں، گولیاں چلائیں گے مگر ہم مقابلہ کریں گے، اس کے لیے نوجوان تیار ہو کر آئیں، یہ جدوجہد عبادت اور دین کا تقاضا ہے، آپ لوگوں کی ترجمانی کررہے ہیں، ہم دھرنے میں بھی ایمبولینس کو راستہ دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں سے ان کا کہنا تھا کہ کراچی، پشاور اور میران شاہ میں بدترین حالات میں لوگ دھرنے دیے ہوئے ہیں، کراچی اور لاہور کا دھرنا چل رہا ہے دھرنے کی چھٹی نہیں ہوگی، دھرنے بھی جاری رہیں گے اور اسلام آباد مارچ کی تیاری کرو۔ لانگ مارچ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہنیں دعا کریں گی جوانوں کو آیت کرسی کے حصار میں بھیجیں گی، خواتین ابھی سوشل میڈیا چلائیں، ابھی آپ کو مارچ میں شامل نہیں کررہے ہیں، پھر حالات دیکھ کر خواتین کے مارچ میں شمولیت کا فیصلہ کریں گے۔ مزدور کو 84 فیصد حقوق حاصل نہیں انہیں مارچ میں لائیں، کسان، تاجر اور علما سب کو مارچ میں شرکت کےلیے لائیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ابھی اسلام آباد مارچ کی تیاری کرو پھر حکومت گرانے کا فیصلہ کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل