Tuesday, September 15, 2026
 

پاکستان میں تمباکو نوشی ترک کرنے والوں کی شرح میں جمود

 



سگریٹ مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کی شرح میں جمود ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کینسر کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سگریٹ نوشی اور ملک میں ہر سال تمباکو سے متعلق تقریباً ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اموات کے پیش نظر اس معاملے پر فوری توجہ ضروری ہے. پاکستان میں صحت عامہ پر بوجھ کم کرنے کے لیے موثر ضابطہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات میں کمی کی جامع حکمت عملی کے تحت سائنسی شواہد پر مبنی تمباکو نوشی سے پاک متبادل مصنوعات کی ضابطہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس حوالے سے فلپ مورس انٹرنیشنل کے سینئر حکام نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران صرف 24.1 فیصد تمباکو نوش افراد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش کی جبکہ 2014 میں یہ شرح 24.7 فیصد تھی۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 22.7 ملین افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں تقریباً 14 ملین بالغ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں فلپ مورس انٹرنیشنل کے سینئر ڈائریکٹر کارپوریٹ افیئرز اینڈ انٹرنیشنل کمپینز، الیکسی کم نے کہا کہ صحت عامہ کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ سگریٹ نوشی نقصان دہ ہے یا نہیں، کیونکہ یہ واضح طور پر نقصان دہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کس طرح سگریٹ نوشی میں تیزی سے کمی لا سکتا ہے، جبکہ نوجوانوں کے تحفظ اور موٴثر ضابطہ جاتی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائے. انہوں نے کہا کہ عوامی پالیسی اس وقت زیادہ موثر ہوتی ہے جب اسے شواہد اور قابل پیمائش نتائج کی بنیاد حاصل ہو۔ دنیا بھر کے ریگولیٹرز تیزی سے اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ نکوٹین کی تمام مصنوعات یکساں سطح کے خطرات کی حامل نہیں ہوتیں۔ سگریٹ سب سے زیادہ نقصان دہ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو جلنے کا عمل شامل ہوتا ہے، اور اسی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر کئی ممالک نے خطرے کی سطح کے مطابق ضابطہ کاری اختیار کی ہے. الیکسی کم نے مزید کہا کہ بالغ صارفین کے لیے دستیاب نکوٹین کی ہر مصنوعات کو غیر قانونی اور غیر منظم مارکیٹ کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے سخت معیارِ معیار اور موثر ضابطہ جاتی نگرانی کے تابع ہونا چاہیے کیونکہ  قوانین کا نفاذ بھی اتنا ہی اہم ہے. ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ضابطہ جاتی نظام کی موثریت کا انحصار اس کے عملی نفاذ پر ہوتا ہے، جس میں ریٹیل سطح پر قوانین کی پابندی، سپلائی چین کی جوابدہی، مصنوعات کی نگرانی اور عمر کی تصدیق کے قوانین کا موثر نفاذ شامل ہے۔ پالیسی اتنی ہی موثر ہوتی ہے جتنا موٴثر اس کا نفاذ ہو۔ نوجوانوں کو کسی بھی قسم کی تمباکو یا نکوٹین مصنوعات استعمال نہیں کرنی چاہئیں فلپ مورس انٹرنیشنل میں جنوبی ایشیا، بھارت، سی آئی ایس

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل