Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی حکومت کے گن گاتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور ہوچکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے، ملک میں استحکام ہے کیوں کہ ہم نے ہر مسئلے کو ملک کے مفاد میں جڑ سے ختم کیا ہے۔
انھوں نے اپنی تارکین وطن سے متعلق پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکا میں وہی داخل ہوسکتا ہے جسے مدعو کیا جائے۔ اس سے جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی کامیابی کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا مرکز تھا جو اب مشرق وسطی میں مزید بدمعاشی نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ میں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے لیکن انھوں نے انکار کیا جس پر میں نے ایران کو مزید پنپنے نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ اب وہ مشرق وسطیٰ میں مزید بدمعاشی نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے دہائیوں پر مشتمل ایران رجیم کو کشت و خوں کی دردناک کہانی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر آواز کو دبایا گیا اور بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل