Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی حکام سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بات اس معاملے سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔
امریکی حکام نے سی این این کو یہ بھی بتایا کہ ایرانی نمائندوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ملاقات کو صدر نے حالات سازگار ہونے سے بھی مشروط کیا ہے۔
سی این این کو مزید بتایا کہ ایرانی حکام سے ممکنہ ملاقات صدر ٹرمپ کے نیویارک میں موجود اعلیٰ مشیروں کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے تاہم فی الحال ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ ملاقات کے حوالے سے امریکی انتظامیہ میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا اس سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے یا کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کوئی عملی پیش رفت ہوسکے گی۔
امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ نیویارک میں موجود ایرانی حکام کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مذاکرات کے لیے مکمل اختیار حاصل بھی ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والے محدود وفد میں شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبِیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تیار ہیں خاص طور پر اگر اس کے نتیجے میں کوئی مثبت پیش رفت ہوسکتی ہو۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کس بھی بات چیت کے لیے امریکی انتظامیہ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی کہا کہ ٹرمپ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اہم سوال یہ ہے کہ ایران کی جانب سے کون بات کرے گا اور آیا ایران اس ملاقات پر آمادہ ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن کا آغاز آج سے ہوچکا ہے اور آج ہی صدر ٹرمپ کا اہم خطاب بھی ہے۔ یہ اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل