Loading
ویلز میں ایک شخص نے کھیت میں میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاش کے دوران تقریباً 3000 سال قدیم سونے کا کنگن دریافت کر لیا۔
ادریس تھامس شمالی ویلز کی کاؤنٹی گوائنیڈ کے علاقے لانووخلین میں ایک زرعی زمین پر میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاش کر رہے تھے۔
تلاش شروع کیے تقریباً 20 منٹ ہی ہوئے تھے کہ ان کے آلے نے کسی دھاتی شے کی موجودگی کاسگنل دیا۔ کھدائی کے دوران انہیں ایک چمک دکھائی دی تو معلوم ہوا کہ زمین میں موجود چیز سونے کی ہے۔
ادریس کے مطابق انہیں شروع میں لگا کہ یہ ٹِن فوائل کا ایک اور ٹکڑا ہے لیکن پھر انہیں سونے کی جھلک نظر آئی۔
بعد ازاں ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ کانسی کے دور سے تعلق رکھنے والا زیور ہے اور اس میں تقریباً 92.8 فی صد خالص سونا موجود ہے۔ اس کی ممکنہ مالیت 15 ہزار سے 20 ہزار پاؤنڈ کے درمیان بتائی گئی ہے۔
یہ قیمتی دریافت ایک انکوائری کے بعد باقاعدہ طور پر خزانہ قرار دے دی گئی جہاں ایک محقق نے اسے انتہائی شاندار قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ادریس نے میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاش کا شوق صرف دو سال قبل شروع کیا تھا۔ اپنی اس غیر معمولی دریافت پر انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی حیران اور خوش ہیں اور اس احساس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
زمین کے مالک گیرینٹ ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ محسوس کرتے تھے کہ ان کی زمین میں کچھ خاص اور منفرد ہے۔ اب ہزاروں سال پرانے سونے کے زیور کی دریافت نے اس احساس کو ایک نئی معنویت دے دی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل