Loading
دنیا کے نقشے پر بعض سمندری راستے محض پانی کی گزرگاہیں نہیں ہوتے، وہ عالمی معیشت کی نبض بن جاتے ہیں اور بعض شہر صرف جغرافیائی مقامات نہیں رہتے، وہ کروڑوں انسانوں کے ایمان، عقیدے، تاریخ اور تہذیبی حافظے کی علامت بن جاتے ہیں۔ جب کسی بحران کی لہریں ایسے سمندر اور ایسے مقدس شہروں کے قریب پہنچنے لگیں تو معاملہ کسی ایک ریاست کی حدود تک محدود نہیں رہتا۔ خلیج اور بحیرہ احمر کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا ہر فیصلہ توانائی، تجارت، سلامتی اور سفارت کاری کے عالمی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکیہ کی فوری فوجی تعیناتی کا فیصلہ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کا ایک اہم پہلو ہے، جسے محض ایک دفاعی اقدام سمجھنا اس کی حقیقی معنویت کو محدود کردینا ہوگا۔
ریاض میں تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ واضح کرتا ہے کہ تینوں ممالک سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو اجتماعی مسئلہ تصور کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت شہری آبادیوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت اور اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن سے ہونے والے حملوں نے سعودی سلامتی کے خدشات کو دوبارہ مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کا معاملہ کسی بھی سیاسی یا عسکری اختلاف سے بالاتر ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی فضائی حدود کو کارروائیوں کا میدان قرار دینے اور ساتھ ہی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی فضائی حدود کو مستثنیٰ قرار دینے کے بیانات اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ مقدس مقامات کے تحفظ پر پوری مسلم دنیا کی حساسیت غیر معمولی ہے۔ ایسے مقامات کو جنگی دباؤ کا حصہ بننے دینا نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرے گا بلکہ پورے خطے میں ایسی نفسیاتی کیفیت پیدا کرسکتا ہے جس میں سیاسی مفاہمت کے لیے گنجائش مزید محدود ہوجائے۔ اسی لیے سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان اور ترکیہ کی شمولیت کا بنیادی مقصد جارحانہ مہم نہیں بلکہ ایسی مؤثر روک تھام ہونا چاہیے جو کسی بھی فریق کو مقدس مقامات، شہری مراکز یا اہم تنصیبات کے خلاف قدم اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کردے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے، دوسرے جہاز کے ایرانی انتباہ پر واپس مڑنے اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر تک تیل کی ترسیل میں دوبارہ رکاوٹ نے بحران کا معاشی رخ بھی نمایاں کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ عالمی توانائی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہاں معمولی خلل بھی تیل، گیس، بیمہ، بحری کرایوں اور عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی اور یمن میں جاری شدید لڑائی اس امر کا اشارہ ہیں کہ بحران اب محض بیانات اور دھمکیوں کی سطح پر نہیں رہا۔ جب ایک جنگ بیک وقت زمینی محاذ، فضائی حدود اور سمندری گزرگاہوں کو متاثر کرنے لگے تو اس کے اثرات کسی ایک ملک کے قابو میں نہیں رہتے۔
امریکا کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری اور واشنگٹن کی طرف سے ریاض کے دفاع کے حق کی حمایت اس بحران کے وسیع تر جغرافیائی پس منظر کو بھی آشکار کرتی ہے۔ خطے میں ہتھیاروں کی فراہمی اگر محض دفاعی توازن قائم رکھنے کے لیے ہو تو اس کی ایک واضح منطق موجود ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں ہر ریاست اپنے تحفظ کو مزید فوجی قوت جمع کرنے سے وابستہ کرلے تو سلامتی کا یہی تصور عدم تحفظ کو بڑھا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں دفاعی اخراجات اور عسکری صلاحیتیں غیر معمولی سطح پر ہیں، مگر پائیدار امن اب بھی کمزور ہے۔ اس تضاد کا علاج محض مزید اسلحہ نہیں بلکہ ایسے سیاسی انتظام میں ہے جو تنازعات کے بنیادی اسباب کو مذاکرات کی میز پر لائے۔
ایران کی جانب سے میزائلوں کی رینج ایک ہزار کلومیٹر سے بڑھانے کا اعلان بھی اسی خطرناک منطق کی علامت ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ حالیہ جنگ نے اسے یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کیا کہ دور مار صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے، جب کہ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی عسکری قوت کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یوں ایک فریق اپنی سلامتی کے لیے جس صلاحیت کو ضروری قرار دیتا ہے، دوسرا اسے خطرے کی علامت سمجھتا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ امریکا اور ایران کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تہران کی جانب سے یہ پیغام اگرچہ سخت شرائط اور دفاعی طاقت کے اظہار کے ساتھ دیا گیا ہے، تاہم اس میں سفارت کاری کے لیے ایک دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ اصل رکاوٹ شاید شرائط سے زیادہ ان کی ترتیب اور عمل درآمد کے طریقہ کار میں پوشیدہ ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور دیگر معاملات کو اپنی شرائط سے جوڑ رہا ہے، جب کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔
ایرانی پارلیمانی اسپیکر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات شرائط کا ذکر اس تعطل کو مزید نمایاں کرتا ہے، اگر فریقین ہر شرط کو پہلے منوانے پر اصرار کرتے رہے تو مذاکرات ایک ایسے دائرے میں پھنس جائیں گے جہاں کوئی قدم دوسرے قدم کے بعد ہی اٹھایا جاسکے گا۔ اس کے برعکس مرحلہ وار اور باہمی اعتماد پر مبنی طریقہ کار زیادہ قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔ محدود جنگ بندی، محفوظ بحری آمدورفت، انسانی اور تجارتی راستوں کی بحالی، اس کے بعد پابندیوں اور جوہری مسئلے پر وسیع تر گفت و شنید، بحران سے نکلنے کی نسبتاً حقیقت پسندانہ راہ ہوسکتی ہے۔
قطر اور پاکستان سمیت ثالثی کی کوشش کرنے والے ممالک کے لیے اس مرحلے پر کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔ ان ریاستوں کی کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ کسی ایک فریق کا موقف دوسرے پر مسلط کریں، بلکہ یہ ہے کہ ایسے رابطے برقرار رکھیں جن کے ذریعے غلط فہمیوں کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔ بالخصوص پاکستان کے لیے صورتحال زیادہ حساس ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے برادرانہ اور دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران اس کا اہم ہمسایہ ہے، جب کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی سلامتی کا براہ راست تعلق پاکستان کی معیشت، توانائی اور سمندری تجارت سے ہے۔ اس لیے پاکستان کی دانش مندانہ حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ دفاعی ذمے داری پوری کرتے ہوئے سفارتی دروازے بھی کھلے رکھے جائیں۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی اور ترکیہ افواج کی سعودی عرب میں تعیناتی کو بھی اسی توازن کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اجتماعی دفاع کا مضبوط پیغام اگر حملہ روکنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے تو یہ خطے میں استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
موجودہ بحران نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کردی ہے کہ توانائی کی عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی اب الگ الگ موضوعات نہیں رہے۔ ہرمز میں ایک جہاز کا رک جانا، بحیرہ احمر میں تیل کی ترسیل کا متاثر ہونا یا کسی بڑے شہر میں فضائی حملے کا خطرہ عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کرسکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس غیر یقینی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے خطے میں امن محض سفارتی ترجیح نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی تنازع کو فوجی دباؤ سے وقتی طور پر محدود کیا جاسکتا ہے، مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مکہ مکرمہ کی حرمت، سعودی عرب کی سلامتی، ایران کی خودمختاری، آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت اور خطے کے تمام ممالک کے جائز سلامتی مفادات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک جامع سیاسی فریم میں دیکھا جائے۔ طاقت کا توازن ضروری ہوسکتا ہے، مگر طاقت کے ساتھ رابطے کا پل بھی ناگزیر ہے۔
اگر ریاض میں دفاعی اتحاد اپنے حصار کو مضبوط کرتا ہے اور اسی وقت دوحہ اور دیگر دارالحکومتوں میں سفارتی رابطے جنگ کے دروازے بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بحران کو ایک بڑے تصادم میں بدلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ایک غلط اندازہ، ایک میزائل، ایک ڈرون یا ایک بند سمندری راستہ پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس کی قیمت صرف متحارب فریق نہیں بلکہ دنیا بھر کے عام انسان ادا کریں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عسکری قوت کی اصل معنویت سامنے آتی ہے: جنگ جیتنے سے زیادہ اہم جنگ کو روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل