Loading
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں پٹرولیم عالمی قیمتوں کے باعث اگر حکومت کو غریبوں کو سستا پٹرول دس ماہ بھی دینا پڑا تو دے گی کیونکہ حکومت کو غریبوں کا احساس ہے۔ ابھی وفاقی وزیر کے بیان کو دو روز ہی گزرے تھے کہ حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی پر تحفظات بھی سامنے آئے کہ تین ماہ کے لیے فیول کمپنسیشن کی حقیقی لاگت 75 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ خبر اگر درست ہے تو اس حکومتی اسکیم کو ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے ،کیونکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف کے تحفظات کو نظر انداز کرنا بھی خاصا مشکل کام ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ عوام کو کچھ ریلیف ملنے لگے تو اس پر آئی ایم ایف تحفظات کا اظہار کر دیتا ہے اور عوام سمجھ لیتے ہیں کہ حکومت اس عوامی ریلیف پر اسٹینڈ نہیں لے گی اور آئی ایم ایف کی ناراضگی کسی صورت مول نہیں لے گی۔ کیونکہ ایسی صورت میں یہ بین الاقوامی ادارہ مزید قرض دینے سے انکار کر دیتا ہے اور حکومت پاکستان اپنے عوام کی ناراضگی تو برداشت کرلیتی ہے لیکن آئی ایم ایف کی ناراضی برداشت نہیں ہوتی۔یہ معاشی و اقتصادی مجبوری ہے۔
وزیر اعظم نے امریکا کے حالیہ دورے سے واپسی پر کہا ہے کہ آئی ایم ایف سربراہ نے کہا ہے کہ یہ نیا پاکستان ہے جس کی نئی ٹیم نے ملکی معاشی حالات کو سدھارا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کے نقشے پر طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا۔ یہ امید افزاء بات ہے لیکن اس کا ثمر عوام کو بھی ملنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف جاری رکھے۔حکومت نے اس فیصلے پر عمل درآمد جاری رکھا تو قوم پر حکومت کا ایسے حالات میں عظیم احسان ہوگا جب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتہ میں مہنگائی بڑھی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پٹرولیم مصنوعات پر جتنی زیادہ لیوی وصول کر رہی ہے، وہ آئی ایم ایف کی ہدایت سے زیادہ ہے جسے جماعت اسلامی حکومت کا بھتہ ٹیکس قرار دے کر احتجاج، دھرنا اور کراچی سے ملتان تک ٹرین مارچ کر چکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج عارضی طور روکا تھا، اگر حکومت نے پٹرولیم لیوی سمیت دیگر ٹیکسوں کا خاتمہ نہ کیا تو جماعت اسلامی دوبارہ احتجاج شروع کرسکتی ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی خوش فہمی ہے کہ وہ حکومت گرا سکتی ہے حکومت تو پی ٹی آئی اور عوامی تحریک 2014 میں طویل دھرنے دے کر بھی نہ گرا سکی۔ حکومت نے تو جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران بھی پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا تو وہ جماعت کے مطالبے پر آئی ایم ایف کو کیسے ناراض کر سکتی ہے؟
حکومت جماعت اسلامی کے دباؤ میں کبھی نہیں آئی، نہ آئے گی۔ چند ماہ قبل بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مہنگے پٹرول پر غریب متاثرین کو دو ہزار روپے ماہانہ دینے کی ایک پیچیدہ اسکیم دی تھی جس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا تھا مگر بائیکوں اور چھوٹی گاڑیوں کو سو روپے سستا پٹرول دینا پھر بھی بہتر ہے اور غریبوں کی پٹرول پمپوں پر لگی قطاریں ثبوت ہیں کہ انھیں ریلیف مل رہا ہے ۔
ملک میں مہنگائی مسلسل بڑھنے سے عوام کو پٹرول سبسڈی کی اشد ضرورت ہے جو انھیں اس حکومت میں پہلی بار ملی ہے۔ اس لیے حکومت یہ رعایتی پٹرول جاری رکھے اور اپنے اخراجات کم کرے۔ حکومت 75 ارب روپے اپنے اخراجات گھٹا کر ایک ہفتے میں بچا کر آئی ایم ایف کو مطمئن کر سکتی ہے، یہ سبسڈی حکومت کا احسان نہیں بلکہ ضرورت ہے ،کیونکہ حکومت نے آیندہ ووٹ عوام سے لینے ہیں، اس لیے ہر دباؤ مسترد کرکے یہ سبسڈی جاری رہنی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل