Tuesday, October 06, 2026
 

ہزاروں لیڈران…وطنِ عزیز پر قربان

 



کیا کہہ رہے ہو کہ ہمارا بھارت کے مسلمانوں سے کیا تعلّق؟ ارے بھائی، یہ تعلق کیا کم ہے کہ ہمارے سینوں میں ایک کلمۂ حق موجزن ہے، ہم ایک ہی نظرّیۂ حیات کے ماننے والے ہیں اور ایک ربِّ کائنات اور اس کے آخری نبی محمد مصطفٰےؐ کے پیروکار ہیں، یہی وہ رشتہ ہے جس کے باعث غزہ ہو یا چیچنیا، بوسنیا ہو یا روہنگیا، کشمیر ہو یا ہندوستان، کہیں بھی مسلمانوں پر آفت آئے یا مصائب میں گھر جائیں تو پاکستان کے مسلمانوں کو درد محسوس ہوتا ہے، یہاں ان کے لیے دل دھڑکتے ہیں، ان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور زیادہ باعمل حضرات انھیں امدادی سامان پہنچانے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں۔ بھارت کے مسلمان تو ہمسائے بھی ہیں۔ جب سے بھارت میں ہندوتوا کے پیروکاروں کو اقتدار ملا ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنا ہے، اُس وقت سے ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ان کا مذہب اور عقیدہ تبدیل کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے اور انھیں معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بھی کرش کیا جارہا ہے۔ آج ہندوستان میں اسلامی نام والے نوجوان کو نہ کوئی ملازمت مل سکتی ہے اور نہ ہی کسی ڈھنگ کی یونیورسٹی میں داخلہ مل سکتا ہے۔ آئے روز سوشل میڈیا پر بھارت کے چند جرأت مند مسلمانوں کی احتجاجی آوازیں سنائی دیتی ہیں، غیر جانبدار صحافی بتاتے ہیں کہ ہر روز مسلمانوں کی کوئی نہ کوئی مسجد گرائی جاتی ہے، کسی نہ کسی دکان کو آگ لگائی جاتی ہے یا ان کے مکانوں کو بلڈوز کیا جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ حکمران پارٹی کے غنڈے، مقامی انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی میں کرتے ہیں۔ وہاں کی جراتمند دانشور ارون دھتی رائے کے بقول بندوستان کے مسلمان جو کبھی سیاسی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے سب سے بلند درجے پر تھے، اب ذلّت میں دلّتوں سے نیچے چلے گئے ہیں، اب ان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی یا سیاسی پسماندگی نہیں بلکہ صرف بقا اور جان کا تحفظ ہے، اگر کنبے کے تمام افراد شام کو زندہ سلامت گھر لوٹ آئیں تو گھر والے شکرانے کے نفل ادا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی نئی نسل زندہ رہنے کے لیے اسلامی ناموں کی بجائے ایسے نام رکھتی ہے جن سے ان کی اسلامی شناخت کا پتہ نہ چلے۔ اس طرح وہ اپنا مذہبی اور ثقافتی تشخص کھوچکے ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا برسراقتدار ٹولہ بڑے systematic طریقے سے مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے ذلت اور پسماندگی کے کنویں میں دھکیل رہا ہے۔ اس ضمن میں ان کے قابلِ فخر تاریخی اور ثقافتی ورثے اور یادگاروں کو ختم کیا جارہا ہے۔ ان پر اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ کروڑوں مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا ہے، مسلمان مشاہیر کے نام پر قائم شہروں، تاریخی عمارات اور تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں ہندوتوا کے تنگ نظر لیڈر اس پر بھی مطمئن نہیں ہوئے اور وزیراعظم کے مشیر اجیت دودل نے تو نوجوانوں کہ یہ کہہ کر اکسایا ہے کہ ’’میرے نوجوانو! یہی وقت ہے مسلمانوں سے بدلہ لینے کا‘‘ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر روز کسی ٹرین میں کسی مسلمان کو قتل کرکے ٹرین سے پھینک دیا جاتاہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب کسی مسلمان کی دکان نہیں ٍلوٹی جاتی اور کسی مسلمان کا گھر نہیں بلڈوز کیا جاتا مگر پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ آج کے دور میں ظالم حکمرانوں کاکوئی ظلم چھپ نہیں سکتا، سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو پتہ چل جاتا ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر بھارت کے مظلوم مسلمانوں کی آہ وزاری دیکھی تو دل بہت دکھا۔ سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب صاحب بڑے دکھی دل سے کہہ رہے تھے کہ 1947میں ہم نے محمد علی جناح کو جھٹلایا اور ابوالکلام اور نہرو کی باتوں میں آکر ان کے پیچھے لگ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت کے مسلمان دلّتوں سے بھی نیچے چلے گئے ہیں۔ مسلمانوں پر اس قدر ظلم ہورہے ہیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملتا اور کہیں بھی شنوائی نہیں ہے۔ دکھ تو یہ کہ بھارتی سپریم کورٹ بھی ظالموں کے ساتھ مل چکی ہے اور وہ بھی مسلمانوں کو انصاف نہیں دیتی، ویڈیو میں دیکھا جارہا تھا کہ مسلمانوں کی مسجد گرائی جارہی ہے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے خاموش کھڑے آنسو بہارہے ہیں، ایک نوجوان مسلم خاتون چیخ رہی ہے اور پولیس کو پیچھے ہٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش بھی کررہی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ’’پیچھے ہٹ جاؤ۔ ہمیں اپنی مسجدوں کی حفاظت کرنے دو، اتنا ظلم کیوں کرتے ہو؟ کیا ہمارا اس ملک پر کوئی حق نہیں؟‘‘ ویڈیو دیکھ کر میں اس قدر مضطرب ہوا کہ اسی وقت ایک مختصر سی تحریر’’ابوالکلام آزاد کے خوابوں کی سرزمین بھارت مسلمانوں کوئی پرسانِ حال نہیں‘‘ کے عنوان سے لکھ دی اور آخر میں یہ بھی لکھا کہ ’’دنیا میں انسانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت آزادی اور سب سے بڑی لعنت غلامی ہے۔‘‘ اَسّی فیصد لوگوں نے تحریر سے اتفاق کیا اور آزادی کی اہمیّت اور فضیلت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں آزادی سے ہمکنار کرنے والے محسنوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا مگر چند لوگوں نے کمنٹس میں لکھا کہ ’’قائداعظم کے پاکستان کے حالات ابوالکلام کے بھارت سے بدتر ہیںیا یہ کہ ہم بھی یہاں غلام ہیں ہمارا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔‘‘ سب کو معلوم ہے کہ اس ملک میں ایک زیرِعتاب پارٹی کے ورکر یا جیل میں بند لیڈر کے پیروکار ایسی باتیں لکھتے ہیں، میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ راہنماؤں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا ایسی باتیں حقیقت ہیں؟ یہ درست ہے کہ آپ کو آج کی حکومت سے اختلاف ہے اور آپ موجودہ حکمران کو ناپسند کرتے ہیں مگر کیا اس مخالفت کو بھارت کی غلامی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟ یہ بھی درست ہوسکتا ہے کہ 2024 میں آپ کا مینڈیٹ چھینا گیا ہو اور آپ کے کچھ لوگوں کو سزائیں بھی دی گئیں، کسی بھی پارٹی کے ساتھ ناانصافی یا زیادتی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، میں نے اپنے کالموں میں ان زیادتیوں پر ہمیشہ تنقید کی ہے مگر اپنے سیاسی مخالف حکمرانوں کی مبینہ زیادتیوں کو بھارت کی غلامی سے بدتر قرار دینا بھی زیادتی ہے۔ کیا پاکستان میں کسی مذہبی عقیدے کی پیروکاروں کی عبادت گاہوں کو گرایا جارہا ہے؟ کیا یہاں کسی مذہبی کمیونٹی کی نسل کشی کی جارہی ہے؟ کیا یہاں پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں پر اعلیٰ سرکاری نوکریوں کے دروازے بند کردیے گئے ہیں؟ ہرگز نہیں، ان کے نوجوان آج بھی فوج اور پولیس میں بھرتی ہورہے ہیں اور سی ایس ایس کے ذریعے اعلیٰ سرکاری نوکریاں حاصل کررہے ہیں۔ سیاسی مشکلات تو وقتی ہوتی ہیں، آج کی اپوزیشن کچھ سالوں بعد اقتدار میں آجاتی ہے، یہی ہوتا آیا ہے، یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمارے راہنماؤں میں فراخدلی اور رواداری کا فقدان ہے۔ بانی پی ٹی آئی سمیت زیادہ تر نے اقتدار ملتے ہی اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا اپنی ترجیحِ اوّل بنائے رکھا۔ بانی پی ٹی آئی کے مخالف بھی جیلوں میں بند رہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے راہنما پھانسیوں اور جلاوطنیوں کا شکار رہے، مگر کسی نے ان زیادتیوں کو بھارتی مسلمانوں جیسی غلامی سے بدتر قرار نہیں دیا۔ یہاں تو یہ بھی ہوا کہ پچھلے سال بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران زیرِ عتاب پارٹی کے ورکروں نے اپنے وطن کے محافظوں کے خلاف اور دشمن ملک کی حمایت میں تحریریں لکھیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ کیا غصّہ نکالنے کا یہ صحیح طریقہ ہے؟ کیا پارٹی کے سمجھدار، سنجیدہ اور saner elements اپنے ورکروں اور حامیوں کو اس سے منع نہیں کرتے، کیا وہ یہ نہیں بتاتے کہ اس سے ہمارا کیس مزید خراب ہوگا اور ایسا کرنے سے ہماری پارٹی عوام کی حمایت سے بھی محروم ہوجائے گی۔ کاش کوئی انھیں سمجھائے کہ کسی سیاسی لیڈر کی محبت میں اس قدر اندھے نہ ہوجائیں کہ انھیں آزادی اور غلامی میں فرق ہی نظر نہ آئے۔ بابائے قوم نہ رہے تو بھی پاکستان قائم رہا۔ موجودہ تمام لیڈران بھی اپنی اپنی طبعی عمر پوری کرکے رخصت ہوجائیں گے مگر پاکستان انشاء اللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم اور دائم رہے گا۔ اپنی آزادی اور وطنِ عزیز پر ایسے ہزارہا لیڈر قربان۔ باہر کے ملکوں میں اگر کوئی انڈین مسلمان مل جائے تو وہ سائیڈ پر لے جاکر کہتا ہے’’ تم کتنے خوش قسمت ہو کہ آزاد ملک کے شہری ہو۔ آزادی کی قدر کرو، ایسا نہ ہوکہ دنیا کی یہ سب سے بڑی نعمت گنوا بیٹھو۔ جو آزادی کی قدر نہیں کرتے انھیں کہو کہ انڈیاآکر ایک ہفتہ رہیں تو انھیں پتہ چل جائے گا کہ غلامی کس عذاب کا نام ہے۔‘‘ ساحر لوھیانوی نے ساری عمر رومانوی شاعری کی، مجازی عشق اور رومان، اس کی زندگی کا لازمی جزو تھا، عشق اور آزادی کے بارے میں اس کے خیالات سن لیجیے۔ عشق وآزادی ہماری زیست کا سامان ہے عشق میری جان آزادی میرا ایمان ہے عشق پر کردوں نچھا ور اپنی ساری زندگی  اور آزادی پہ میرا عشق بھی قربان ہے

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل