Loading
پشاور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں محکمہ جنگلی حیات نے نایاب پرندوں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی شکار کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
ایک کارروائی میں قیمتی و نایاب فالکن پشاور سے کراچی منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی، جبکہ پنجاب میں 2500 سے زائد جنگلی پرندے بازیاب کرانے کے ساتھ غیر قانونی شکار میں ملوث 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے پشاور موٹروے پر کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی سے نایاب اور قیمتی فالکن برآمد کرلیا۔ ڈی ایف او پشاور مناہل وہاب نے بتایا کہ نایاب پرندے کو غیر قانونی طور پر پشاور سے کراچی لے جایا جارہا تھا، تاہم محکمہ جنگلی حیات نے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔
دوسری جانب پنجاب میں جنگلی پرندوں کی غیر قانونی نیٹنگ اور پکڑ دھکڑ کے خلاف وائلڈ لائف رینجرز کی کارروائیاں جاری ہیں۔
لاہور میں جنگلی پرندوں کو غیر قانونی طور پر جال میں پھنسانے والے 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع سے فالکن اور بٹیر کا غیر قانونی شکار کرنے والے مزید 6 شکاری پکڑے گئے۔
لاہور کے علاقے رائے ونڈ میں کارروائی کے دوران 2500 سے زائد ممولے اور ابابیلیں بازیاب کرائی گئیں، جنہیں بعد ازاں ان کے قدرتی ماحول میں آزاد کردیا گیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں فالکن اور بٹیر کی غیر قانونی نیٹنگ کے خلاف کارروائیوں کے دوران شکار میں استعمال ہونے والے 10 نیٹنگ گیئرز ضبط کیے گئے۔ ملزمان کے قبضے سے 3 موٹرسائیکلیں، 2 جال اور بانس کے پولز بھی برآمد کیے گئے۔
وائلڈ لائف رینجرز نے لاہور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، خانیوال، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں غیر قانونی شکار اور جنگلی پرندوں کو پکڑنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کیں۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق 8 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی کارروائی کی جارہی ہے، جبکہ ایک ملزم کو 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے کارروائیاں بلاتعطل جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل