Thursday, October 08, 2026
 

حج پر بعض صحافی  5 سے زائد مرتبہ کیسے گئے؟ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

 



قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی حج کی تبدیلی، حج پالیسی، میڈیا نمائندوں کو حج پر بھجوانے اور زیارات پالیسی سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی نے ڈی جی حج سے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ لینے سے انکار کرتے ہوئے ان کی تبدیلی کا معاملہ دوبارہ اٹھا دیا۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر اعجاز الحق کی زیر صدارت ہوا، جس میں کمیٹی ارکان نعیمہ کشور، شگفتہ جمانی اور احمد سلیم صدیقی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا سمیت وزارت کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، جبکہ کمیٹی کو حج پالیسی 2027 سے 2030 تک کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران ڈی جی حج کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیر بحث آیا۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ ڈی جی حج کو اب تک کیوں نہیں ہٹایا جارہا؟ اس موقع پر کمیٹی نے ڈی جی حج سے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ لینے سے بھی انکار کردیا۔ سیکرٹری مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ نئے ڈی جی حج کی تعیناتی کا معاملہ زیر غور ہے، تاہم کسی شخصیت کے تبدیل ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اجلاس میں حج کے دوران مختلف افراد کو نوازنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی رکن شگفتہ جمانی نے استفسار کیا کہ بتایا جائے حج میں لوگوں کو کس طرح نوازا جاتا ہے؟ سیکرٹری مذہبی امور نے جواب دیا کہ کسی کو نہیں نوازا جاتا، تاہم اگر اس حوالے سے کوئی اطلاعات موجود ہیں تو وزارت کو آگاہ کیا جائے، متعلقہ معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔ شگفتہ جمانی نے تجویز دی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو حج پر لے جایا جائے تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ وزارت مذہبی امور کی کارکردگی کیسی ہے۔ اس پر سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ وزارت اطلاعات کے ذریعے 5 میڈیا پرسنز کو حج پر بھجوایا جاتا ہے۔ شگفتہ جمانی نے اس اطلاع پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔ مذہبی امور کی کوریج کرنے والے صحافی ہی وزارت کی کارکردگی اور حج انتظامات سے متعلق اصل حقائق سامنے لاسکتے ہیں۔ سیکرٹری مذہبی امور نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کو اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی، جن میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ کون سا میڈیا نمائندہ کب حج پر گیا۔ کنوینئر کمیٹی اعجاز الحق نے کہا کہ بعض میڈیا پرسنز 5 مرتبہ سے بھی زیادہ حج پر جاچکے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے۔ اجلاس میں سابق صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں کم آمدن والے افراد کے لیے قائم کیے گئے حج فنڈ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی کہ اس فنڈ سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔ بعدازاں اجلاس میں زیارات پالیسی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ شگفتہ جمانی نے حج پالیسی کی تیاری کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ حج پالیسی کس طرح بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حج پالیسی کو زیارات پالیسی میں کاپی پیسٹ کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے ایک رکن نے نشاندہی کی کہ حج اور زیارات دو الگ الگ معاملات ہیں، اس لیے دونوں کو ایک ہی انداز میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے کمیٹی کو بتایا کہ عمرہ اور زیارات کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد میں سے 15 سے 20 فیصد واپس نہیں آتے۔ یہ مسئلہ میزبان ممالک ایران، عراق اور سعودی عرب کو درپیش ہے۔ ایسے افراد ان ممالک سے ترکیہ اور یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیارات پالیسی سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ متعلقہ معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ آیاٹا لائسنس صوبائی سطح پر جاری کیے جاتے ہیں۔ صوبوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پہلے وزارت مذہبی امور کے لائسنس کا انتظار کریں۔ اجلاس میں کنوینئر اعجاز الحق نے استفسار کیا کہ کیا زیارات کے معاملات دیکھنے کے لیے بغداد میں کوئی خصوصی قونصلیٹ موجود ہے؟ جس پر سیکرٹری مذہبی امور نے جواب دیا کہ بغداد میں سفارتخانہ تو موجود ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی دوسرا خصوصی انتظام نہیں کیا گیا۔ شگفتہ جمانی نے زیارات کے انتظامات میں سالاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سالار بہترین کام کررہے ہیں، تاہم زیارات پالیسی پر کمیٹی کو ایک مفصل بریفنگ دی جانی چاہیے۔ اجلاس کے اختتام پر اعجاز الحق نے کہا کہ زیارات پالیسی کے معاملے پر جلد الگ بریفنگ لی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ خود بھی آئندہ چند روز میں پہلی مرتبہ بغداد جائیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل