Loading
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اور متحدہ عرب امارات کی فوج آبنائے ہرمز میں تیل اسمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ کے دوران ایرانی فورسز ہر رات تیل کی اسمگلنگ میں ملوث اوسطاً 5 بحری جہازوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔
ان کے بقول یہ کارروائیاں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی نگرانی میں کی جا رہی ہیں اور یہ جہاز آبنائے ہرمز میں سمندری چٹانوں کو دھماکے سے اُڑا کر بنائے چور راستوں سے تیل اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
محسن رضائی نے مزید الزام لگایا کہ تیل کی اسمگلنگ کی ان کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے اہلکاروں کو بھی استعمال کیا گیا اور انھیں مبینہ اسمگلنگ آپریشنز میں معاونت کے لیے تعینات کیا گیا۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی ایہ لزام لگایا کہ امریکی صدر نے عمان کے ساحلی پانیوں میں بعض اسمگلروں کے ساتھ مل کر تیل کی غیر قانونی ترسیل کی کارروائیاں کی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سیکیورٹی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کو متاثر کرسکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل