Loading
خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں پولیس نے مبینہ طور پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کے دوران 50 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا، دوسری سوات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 کارکنوں کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث 50 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے آج رات مزید چھاپے مارے جائیں گے، واقعات میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوات میں 24 افراد گرفتار
سوات کے علاقے سیدو شریف میں ڈی آئی جی دفتر کے سامنے پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے خلاف درج مقدمے میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، پولیس نے گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا جنہیں جیل بھیج دیا گیا۔
ڈی آئی جی آفس کے سامنے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر روڈ بلاک کرنے، اداروں اور حکومت کے خلاف بیان بازی اور دھمکی آمیز تقاریر کرنے کے الزامات کے تحت سابق اراکین اسمبلی فضل حکیم خان یوسفزئی، علی شاہ خان ایڈووکیٹ، اختر خان ایڈووکیٹ اور حمید الرحمان، ڈاکٹر امجد علی اور سہیل سلطان کے ساتھ 200 نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرے میں شریک 24 افراد کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور بعد ازاں تمام گرفتار افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل