Loading
آئی ایم ایف کے پروگرام کے ابتدائی 2برسوں کے دوران ٹیکس نظام مزید غیر منصفانہ ہونے کے تناظر میں فنڈ کے آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازور نے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے اور کاروبار کو وسعت دینے کے لیے زیادہ منصفانہ اور غیر جانب دار ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹیکس نظام سے متعلق 2روزہ کانفرنس کے پہلے روز جہاد ازور کا افتتاحی خطاب زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جہاں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا جبکہ پرچون فروشوں، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے بڑی حد تک ٹیکسوں سے مستثنیٰ رہے ہیں۔
جہاد ازور نے خطاب میں کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، محصولات وصول کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا، ٹیکس مراعات اور چھوٹ میں کمی کرنا، ترجیحی اخراجات کا تحفظ اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا پاکستان کی ترجیحات ہیں۔تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے ابتدائی 2برسوں کے دوران پرچون فروشی، زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے بااثر شعبوں کی ٹیکس ادائیگیاں نہایت کم رہیں۔
مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اہداف مسلسل حاصل کیے جائیں، آئی ایم ایف انتظامیہ نے رواں سال جون میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں کم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا ہدف 2 ارب روپے تھا، تاہم سندھ حکومت صرف ایک ارب 10 کروڑ روپے جمع کرسکی۔
پنجاب حکومت کے بجٹ دستاویزات کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے 10 ارب 50 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں وصولی صرف 4 ارب روپے رہی۔
اس کے برعکس، آئی ایم ایف پروگرام شروع ہونے سے قبل تنخواہ دار طبقے کی سالانہ ٹیکس ادائیگیاں 391 ارب روپے تھیں، جو پروگرام کے دو مالی سالوں کے اندر بڑھ کر جون 2026 تک 629 ارب روپے ہوگئیں۔
اپنے خطاب میں جہاد ازور نے کہا کہ ٹیکس سے متعلق یہ ورکشاپ پاکستان کے اصلاحاتی سفر کے ایک اہم مرحلے پر منعقد ہورہی ہے۔
مختلف بحرانوں اور غیر یقینی صورت حال کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے، اعتماد کی فضا دوبارہ قائم کرنے، بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے اور بتدریج معاشی بحالی کی حمایت میں اہم پیش رفت کی ہے۔
آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر نے کہا کہ اب اگلا اہم مرحلہ استحکام کو زیادہ مضبوط اور پائیدار معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے تاہم مختلف بحرانوں کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں اہم پیش رفت کی۔
ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی کو محض مالیاتی اہداف پورے کرنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں اور قدر میں اضافے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ، مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پرآ گیا ہے، مسلسل تین سال بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا ، محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل