Loading
سینیٹ کا ادارہ کیسے وجود میں آیا؟ سیدھا سا جواب ہے کہ 1973 کے آئین کے تحت۔ یہ بات درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا تجربہ تھا جس کی وجہ سے ہمارے بزرگوں کے ذہن میں ایوان بالا کا تصور آیا؟ چھوٹے بڑے صوبوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے۔ یہ جواب درست تو ہے لیکن یہ مکمل جواب نہیں ہے۔
میں نوجوان محقق ڈاکٹر دلاور حسین کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے ایک اور انداز میں سوچنے پر مجبور کیا۔ یہ ماجرا مجھے ابھی بیان کرنا ہے لیکن اس سے پہلے کچھ باتیں ڈاکٹر دلاور حسین کے بارے میں۔ ان کے بارے میں کچھ کہنے سے پیشتر میں یہ واضح کر دوں کہ میری ان سے شناسائی نہ ہوتی، اگر ایک سہ پہر ان سے ملاقات نہ ہوتی۔
چند ماہ ہوتے ہیں، انھوں نے فون پر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ پیشگی راہ و رسم بلکہ کوئی تعارف نہ ہونے کے باوجود یہ ملاقات ممکن ہو گئی۔ فی زمانہ لوگ اجنبیوں سے ملنے اور گھر مدعو کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن دلاور کی گفتگو میں ایسا سلیقہ تھا کہ گھبرانے کے بہ جائے میں نے انھیں مدعو کر لیا۔ معلوم ہوا نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز(نمل)میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے والی بات درست ہے لیکن ہمارے نوجوان تھوڑے پڑھ لکھ جائیں، اس سے بڑھ کر دوچار مضامین لکھ لیں تو ہما شما تو انھیں دکھائی نہیں دیتے لیکن عام رجحان کے برعکس ان کا مزاج مختلف تھا۔
نرم خو، دھیما اور پرجوش لیکن اس کے ساتھ ساتھ متانت اور سنجیدگی بھی۔ ان سے بات کر کے اچھا لگا۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں تاریخ کو جس طرح مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے، اسے بے نقاب کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ضرور کیجیے۔ اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ بتانے لگے کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک طویل سلسلہ مضامین ہو سکتا ہے۔ میں نے ایک انگریزی اخبار سے بات کی ہے لیکن وہ ایک آدھ مضمون سے زیادہ شائع کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، کیا کروں؟ پرجوش نوجوانی میں لکھنے پڑھنے والوں کو اکثر ایسے سوالات اور چیلنجز سے واسطہ پڑتا رہا ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ آپ ان سے بہت سے مضامین شائع کرنے کا وعدہ لیتے ہی کیوں ہیں۔
ایک ایک کر کے مضمون لکھتے جائیے، تحریر میں جان ہوگی تو وہ خود بہ خود شائع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انھوں نے پر خیال انداز میں سر ہلایا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے بات ان کی سمجھ میں آ گئی ہے۔ اس سلسلہ مضامین کا کیا ہوا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اس بار آئے تو ان کی بغل میں ایک کتاب تھی: The Senate of Pakistan and Regional Representation ۔ معلوم ہوا کہ یہ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو کسی امریکی ادارے نے اہتمام سے شائع کیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد آئین سازی کا مرحلہ آیا سب سے پہلے تو ملک کے مشرقی اور مغربی حصے کے درمیان توازن کا سوال پیدا ہوا جس کی وجہ سے بڑی تلخیاں پیدا ہوئیں یہاں تک کہ وہ آئین جسے امکانی طور پر ابتدائی چند برسوں کے دوران ہی بن جانا چاہیے تھا، طویل التوا کا شکار ہو گیا۔
صرف یہی نہیں ہوا، اس عرصے میں 1953 کے مارشل لا کا نفاذ بھی ہو گیا جس نے آئین سازی کے عمل کو مزید نقصان پہنچایا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس زمانے میں پہلی تلخی مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اقتدار میں حصے کی کشمکش بھی تھی جسے اس زمانے کے اخبارات ہوا دے رہے تھے۔ بعد میں یہ مسئلہ دب ضرور گیا لیکن فی الحقیقت یہی مسئلہ سیاسی عدم استحکام کی بنیاد تھا۔ ڈاکٹر دلاور نے لکھا ہے کہ 1956 کے دستور میں پیریٹی کے غیر فطری فارمولے کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا گیا لیکن چوں کہ یہ حل مصنوعی اور غیر منصفانہ تھا، اس لیے چل نہ سکا، بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہو گیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد آئین سازی کا عمل شروع ہوا تو آئین سازوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ صوبوں کے مفادات کا تحفظ اور ریاست میں ان کی مساویانہ شرکت کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ سینیٹ کا قیام اسی سوال کا جواب تھا۔
ہاؤس آف فیڈریشن کی حیثیت سے اس ادارے کی کارکردگی کیسی ہے؟ ڈاکٹر دلاور نے اپنی تحقیق کی روشنی میں اس کا دل چسپ جواب دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کا انحصار چیئرمین سینیٹ کی شخصیت پر ہے، وہ بھرپور اور جان دار ہو گی تو یہ ادارہ بھی زیادہ متحرک اور جان دار ہو گا جیسے رضا ربانی اور ان جیسے مزاج والا چیئرمین آ گیا تو ادارہ متحرک ہو گیا۔ ایسا نہ ہوا تو اس کی کارکردگی میں بھی ضعف آ گیا۔ کچھ ایسا معاملہ ہی اس کے ارکان کا بھی ہے۔
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ سینیٹ میں عام طور پر چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے یا چھوٹی جماعتوں کے اراکین زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پنجاب یا حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین کم متحرک ہوتے ہیں۔
کیا یہ ادارہ صوبائی حقوق کے تحفظ کے ضمن کام یاب رہا ہے؟ اس سوال کا جواب زیادہ آسان نہیں۔ اس حقیقت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایوان بالا کی وجہ سے بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان توازن پیدا ہو جاتا ہے لیکن اس ادارے کے حقیقی مقاصد کے حصول میں کچھ نہ کچھ کمی بھی رہ جاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اراکین سینیٹ فیصلہ سازی یا رائے کے اظہار کے موقع پر اپنی جماعت کے اشارہ ابرو کے منتظر ہوتے ہیں۔ محقق کا کہنا ہے کہ اراکین سینیٹ چوں کہ اپنے جماعت سے ٹکٹ کے محتاج ہوتے ہیں اور ان کا انتخاب براہ راست نہیں ہوتا، اس لیے وہ آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ان کے خیال میں اس کی ایک اور وجہ مناسب تربیت کی کمی اور سینیٹر صاحبان کو ضروری عملے کی عدم دست یابی بھی ہے۔ یہ بات کس حد تک درست ہے ، فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
اگر سینیٹ کی کارکردگی کی راہ میں ایسی رکاوٹیں حائل ہیں تو انھیں دور کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ مسئلے کا ایک حل تو مسائل کے ذکر میں ہی آ گیا کہ بالواسطہ انتخاب اراکین سینیٹ کی آزادی کو سلب کرتا ہے تو اسے براہ راست انتخاب سے بدل دیا جائے۔ دلاور نے اس مسئلے کا ایک اور حل بھی پیش کیا ہے۔ انھوں نے جرمنی سے ایک مثال پیش کی ہے۔ جرمنی میں وفاقی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان پارلیمانی کمیٹیوں کی شکل میں ایک درمیانی ادارہ قائم کیا گیا ہے جب کسی ایسی قانون سازی کا مرحلہ آتا ہے جس کا تعلق صوبوں کے مفاد سے ہو تو اس موقع پر یہ کمیٹیاں متحرک ہو جاتی ہیں، اس طرح کسی یک طرفہ فیصلے کا امکان ختم یا محدود ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس تحقیق کے مطالعے کے بعد کیا سمجھ میں آتا ہے، سینیٹ آف پاکستان ایک کام یاب ادارہ ہے یا اس کی کارکردگی پر سوالات ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے تو اس کتاب کا مطالعہ نہایت سنجیدگی سے کرنا ہو گا لیکن اتنا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ سینیٹ آف پاکستان پر یہ پہلی تحقیقی کتاب ہے، اس سے پہلے جو کتابیں آئی ہیں، ان کے نام میں پارلیمنٹ کا لفظ تو شامل تھا لیکن سینیٹ کا تذکرہ دو تین صفحات تک ہی محدود رہا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل