Loading
ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا، نئے طریقہ کار کا اطلاق آئندہ 30 روز کے لیے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے ریفائنریز کو نیا فارمولا جاری کر دیا۔
پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پی ایس او کے اصل درآمدی کارگو کی لاگت پر ہوگا اصل درآمدی لاگت دستیاب نہ ہونے پر آخری کارگو کا پریمیم اور اضافی اخراجات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
آئل ریفائنریز آئندہ 30 روز تک پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر مقرر کر سکیں گی۔ ریفائنریز کو پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی 7 مارچ 2026 کی سطح پر رکھنے کی اجازت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق ریفائنریز کو پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کرانا ہوگا۔ پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کا فائدہ صرف پیٹرول صارفین کو منتقل کیا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں حاصل ہونے والا فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں صارفین کو ملے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن نے تمام آئل ریفائنریز کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے۔ ریفائنریز کو پیٹرول کی روزانہ فروخت کی تفصیلات پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق روزانہ فروخت کی رپورٹس کے ساتھ سی پی آرز اور چالان بھی جمع کروانا ہوں گے، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن اضافی لیوی کی ادائیگیوں اور حسابات کی تصدیق کریں گے۔
نئے طریقہ کار کا اطلاق آئندہ 30 روز کے لیے ہوگا۔ نومبر میں پاکستان آنے والے پیٹرول کارگوز پر درآمدی پریمیم 28 سے 35 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ اس وقت پیٹرول کی قیمتوں میں 19.88 ڈالر فی بیرل پریمیم شامل ہے۔
مقامی ریفائنریز کے لیے پریمیم اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی 7 مارچ 2026 کی جنگ سے قبل کی سطح پر برقرار رکھی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل