Sunday, November 01, 2026
 

پہلے صدارت کا لالچ دیا گیا، پھر ریاست میں فضل الرحمان کو حصہ نہ دے کر زیادتی کی گئی، طاہر اشرفی 

 



چیرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محمود اشرفی  نے تعظیم حرمین شریفین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بڑی واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم مند روز اول سے امت مسلمہ کےلئے کوشاں ہیں،  وہ دو دن قبل تہران گئے، یہ خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان ایران کےلئے بڑا فکر مند ہے،  یہ حوثی کوئی اہمیت نہیں رکھتے، اللہ نے ہمیں سعودی عرب کی فوج کے ساتھ ملکر بنایا ہے اس سے تفریق پیدا کرنے والو نو تکلیف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دستور 57 ممالک سے زیادہ مضبوط ہے، اللہ اور اللہ کے رسول کے در پر حاضری اللہ او اللہ کے نبی کے بغیر ممکن نہیں،  یہود و انصار کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دینگے، یہ پاکستان کی فوج کو اعزاز ملنا کہ وہ تحفظ حرم مین ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک حافظ قران کو پاکستان کا سپہ سالار بنایا، مارکہ حق میں ان کا خیال تھا کہ پاکستان کو کسی طرح کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کی جو مکہ توسیع کے حوالے فیصلے کیے ہیں اس کی ساتھ ہیں، بلوچستان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جو دہشت گرد آپکی بچیوں کو کالجوں سے اٹھا کر دہشت گردی کے خلاف استعمال کرتے ہیں، ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، ابھی پانی میں لڑکیوں کے کالج پر حملہ کیا گیا یہ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں تعلیم حاصل نہ کرسکیں، بلوچستان کی بیٹیوں بیٹوں سے کہتا ہوں کہ او مکالمہ کریں، جو پاکستان کے دستور کو مانتے ہیں۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف ان سازشیوں کو بتا دینا چاہتے ہیں ملک کو خراب نہیں کرنے دینگے، کے پی کے میں ایمرجنسی لگی ہے، دوست ناراض نہ ہو، یہ وزیراعظم گورنر کے کی کے کی زمہ داری ہے کہ وہاں امن قائم کریں،  وہ حوثی اور ملکہ مکرمہ پر حملوں کو دیکھ اور آپس کی تلخیوں کو ختم کریں، وزیراعظم نے بار بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، سب ایک پیج پر آئیں۔ چیرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ مکہ مدینہ کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے دینے کےلئے تیار ہیں، عرض حرم شریفین پر حملہ کسی صورت قبول نہیں یہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، مدارس کے اسلام آباد میں اکاؤنٹ کھولنے شروع ہوگئے یں، پاکستان کا دفاعی معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، ایران سے حوثیوں سے اپنے آپ کو الگ کرنے کا اعلان کیا اسکا خیر مقدم کرتے ہیں، ساری مذہبی سیاسی کو ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ  پاک فوج ایک ریڈ لائن ہے، آج جہاں مولانا، نواز شریف،  ہم جہاں کھڑے ہیں اللہ کے بعد اس ریاست کا دیا ہوا ہے، ماں باپ کے پاس علاج ہوتا ہے، مولانا جانتے ہیں کہ ماں کیسے راضی جانتے ہیں اور ریاست بھی جانتی ہے ان کو راضی کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری اور شہباز شریف سے کہوں گا کہ انہوں نے زیادتی کی جہاں دیگر لوگوں کو ان کا حق دیا انہیں بھی ان کا حق دیا جائے، مولانا پر زمہ داری آگئی ہے کہ امن کےلئے کام کریں، مولانا کی طبعیت بھی خراب رہتی ہے جب ان کا بلیڈ پریشر ہائی ہو، تقریر کرنے کی بجائے انہیں آرام کرنے کا کہیں۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کا فون سنیں، ایسی کمیٹی بنائیں جو وزارت کے برابر ہو، انہیں اس کا چیئرمین بنا دیں تو انہیں جہاز استعمال کرنے کی اجازت دیدیں، ریاست میں مولانا کو کچھ حصہ نہ دے کر زیادتی کی، مولانا کو پہلے صدارت کا لالچ دیا پانچ فروری کو دربار عالیہ میں پتہ چل گیا کے پی بلوچستان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں، مولانا ریاست کے خلاف بات کریں تو آئین مفتی محمود نے بنایا جو ان کے والد ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل