Loading
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری سالک کو ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
اٹک میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ میں چوہدری سالک حسین کو پنجاب حکومت کی کرپشن سے متعلق دعوے پر ہرجانے کا نوٹس بھجواؤں گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ چوہدری سالک وفاقی وزیر ہیں، الزام لگانے کے بجائے ثبوت پیش کریں، اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، ورنہ عدالت میں لے کر جاؤں گی، انہوں نے کہا کہ اگر اتنی کرپٹ حکومت ہے تو اس کے ساتھ وزیر بن کر کیوں بیٹھے ہو۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ جو شخص سفارش پر آتا ہے وہ ملک اور عوام کا بیڑا غرق کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپس اور اسکالر شپس دینے نہیں بلکہ طلبہ کی کامیابیوں کو ایک ماں کی حیثیت سے سراہنے آئی ہوں، یہ طلبہ کی محنت کی کمائی اور ان کا حق ہے، بہت سے بچوں نے وسائل کی کمی اور سیاسی طور پر بھڑکائے جانے کے باوجود محنت کا راستہ نہیں چھوڑا، ماضی کی باتیں نہیں کرنا چاہتی، خرابیوں کی نشاندہی کے بجائے مسائل کے حل کے لیے آئی ہوں، میں اپنی رپورٹ کارڈ لے کر آپ کے پاس آتی ہوں، اسے دیکھیں اور فیصلہ کریں۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ یہاں بیٹھے ہر بچے کی اپنی کہانی ہے، جو محنت اور جدوجہد کی کہانی ہے، ماضی میں ایسے بہت سے ضرورت مند اور قابل بچوں کو لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس نہیں مل سکیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث اب کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہو گا، پنجاب واحد صوبہ ہے جو بچوں کو لیپ ٹاپس، اسکالرشپس اور موٹر بائیکس بھی فراہم کر رہا ہے، پنجاب میں 300 نواز شریف اسکولز آف ایمننس قائم کیے جا رہے ہیں، تعلیم کا انقلاب خود بخود نہیں آیا بلکہ اس کے لیے محنت کی گئی ہے۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کا ہر بچہ اور بچی مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہے، دن رات کوشش کر رہی ہوں کہ پنجاب خواتین کے لیے ایک محفوظ صوبہ بنے۔
ان کا کہنا ہے کہ جہاں پنجاب کی سرحد ختم ہوتی ہے، وہاں ترقی بھی ختم ہو جاتی ہے، میں ایسی وزیرِ اعلیٰ نہیں جو صرف مسائل گنواتی رہے بلکہ مسائل کے حل کے لیے دن رات کام کرتی ہوں، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کا معیار بہتر ہو رہا ہے، ستھرا پنجاب کے 2 لاکھ ملازمین صوبے کی صفائی کر رہے ہیں۔
مریم نواز نے بتایا ہے کہ ضلع اٹک میں 2 سال کے دوران 850 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں اور اٹک میں گرین بسیں بھی چل رہی ہیں، اٹک کے لیے مزید گرین بسیں لے کر آئی ہوں اور ان کے افتتاح کے لیے طلبہ کو مدعو کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل