Loading
حالیہ مڈٹرم الیکشن میں 39 سالہ ڈیموکریٹ رہنما جان اوسوف امریکی سیاست میں تیزی سے ابھرتا ہوا نام بن گئے ہیں جو ٹرمپ کے تیسری بار صدر بننے کی خواہش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انتخابی مہم کے آغاز پر وہ واحد ڈیموکریٹ سینیٹر تھے جو ایسی ریاست سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے تھے جہاں 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے۔
جان اوسوف کو ان کی خطابت، کم عمری اور ترقی پسند و معتدل پالیسیوں کے باعث باراک اوباما سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ معروف رہنما جان لیوس کے معاون بھی رہ چکے ہیں۔
اپنی باکمال شخصیت، قابلیت، انتھک محنت سے انھوں نے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ انھیں اگلے صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹ کے امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سیاست میں آنے سے قبل جان اوسوف دستاویزی فلمیں بنانے والی کمپنی چلاتے تھے اور بدعنوانی کے معاملات پر کام کرتے تھے۔
2021 میں انہوں نے ضمنی انتخاب کے ذریعے جارجیا میں ریپبلکنز کی سینیٹ کی نشست چھین لی تھی۔ حالیہ انتخابی مہم میں انہوں نے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ چندہ جمع کیا۔
سینیٹر کی حیثیت سے جان اوسوف نے منشیات کے بحران سے نمٹنے، صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے، ذہنی صحت اور سابق فوجیوں کی مدد کے لیے قانون سازی کی حمایت کی۔
وہ فوجی خاندانوں کو نجی رہائشی منصوبوں میں درپیش مسائل، بچوں کی سرپرستی کے نظام میں بدسلوکی اور وفاقی جیلوں میں بدعنوانی کی تحقیقات میں بھی سرگرم رہے ہیں۔
گزشتہ برس خفیہ ادارے کے سربراہ جان ریٹکلف سے قومی سلامتی کی حساس معلومات ایک صحافی تک پہنچنے کے معاملے پر سخت سوالات کرکے بھی انہوں نے شہرت حاصل کی تھی۔
جان اوسوف اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ اٹلانٹا میں رہتے ہیں جو ایک سادہ زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے عوام کے نہایت قریب ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل