Loading
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی جبکہ فہرست میں شامل دو رہنما اڈیالہ جیل ہی نہیں آئے، ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ہم چاہتے ہیں سب کا احتساب ہو۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج جیل میں دوستوں کی ملاقات کا دن تھا جہاں ملاقات کی فہرست میں 6 رہنماوں میں سے 4 رہنما ترجمان بانی پی ٹی آئی نیازاللہ نیازی، سینیٹر فلک ناز، انعام اللہ خان یوسفزئی اور صفدر حسین ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آئے لیکن کسی کو بھی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، فہرست میں شامل پی ٹی آئی رہنما عمران شوکت اور سعد علی خان اڈیالہ جیل ہی نہیں پہنچے۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں ترجمان بانی نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کسی پارٹی لیڈر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، ملاقات نہیں ہونے سے ہمیں نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کس حالت میں ہیں، چار ہفتوں سے کسی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے احکامات ہیں ملاقات کرائیں، نہ فیملی کی ملاقات ہو رہی ہے، نہ وکلا نہ ہی لیڈر شپ کی، بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی کسی کی ملاقات نہیں ہورہی ہے، قیدی کا حق ہے کہ وہ ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرے۔
نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں بھی مختلف عدالتوں میں پڑی ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر ایگزیکٹیو کے نیچے ہے، ملک کا وزیراعظم بھی کہتا ہے کہ ملاقات ہوگی یا نہیں پوچھ کر بتاتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی فوجی ادارے کے خلاف بات نہیں کی لیکن مجھے بھی ملاقات کرنے نہیں دی، میں بانی کا ترجمان ہوں مجھے کیوں ملاقات سے روکا جاتا ہے، نواز شریف بھی جیل میں تھا سب پارٹی لیڈر اس سے ملاقات کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا تھا کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے جو بھی پوسٹ ہوگی، نیاز اللہ نیازی تحریر کریں گے، بانی پی ٹی آئی ورلڈ کپ جیت کر آئے سابق وزیراعظم ہیں ان سے سیاسی گفتگو نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔
ترجمان بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کل الیکشن کرائیں لوگ آپ کو بتا دیں گے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں، بانی نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے حالات پر لیڈر شپ سے ملنا چاہتا ہوں، ہر لیڈر کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی بھی اپنے لیڈرز کو پالیسی دینا چاہتا ہے، ہماری کسی ادارے کے ساتھ جنگ نہیں ہے، آئین پاکستان میں ہر ادارے کی حدود متعین ہے، کیا بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پاکستان بچانے کے لیے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا تھا آپ کے ایکس اکاؤنٹ پر جتنی گفتگو ہوتی ہے میں پوسٹ کروں گا، ووٹ چوری سے بڑا جرم کوئی نہیں ہمارا ووٹ چوری کیا گیا، سابق کمشنر راولپنڈی کا بیان آن ریکارڈ ہے۔
نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اس ملک میں احتساب ہو یہ ملک آگے چلے، ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ملک میں صاف شفاف الیکشن کرائیں پھر جس کو ووٹ ملتے ہیں وہ حکومت بنائے، ایک سائیڈ پر بانی کا نظریہ ہے اور دوسری طرف 77 سال سے قائم نظام ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل