Loading
پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور میں چند دن کے لیے بسنت فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان ہوتے ہی شہر میں ایک پرانا، متنازع اور تکلیف دہ سوال پھر زندہ ہو گیا ہے: کیا واقعی پتنگ بازی ’’حلال‘‘ اور ’’محفوظ‘‘ بنائی جاسکتی ہے؟ یا یہ محض الفاظ کا کھیل ہے جو ہر بار کی طرح انسانی جانوں کی قیمت پر کھیلا جائے گا؟
بسنت کا نام سنتے ہی رنگ، موسیقی اور خوشی کا تصور ابھرتا ہے، مگر لاہور جیسے گنجان شہر میں اس تہوار کی تاریخ خون، زخموں، ٹوٹی ہڈیوں اور بجھی ہوئی آنکھوں سے بھی جڑی ہے۔ اعلان سے پہلے ہی درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ مسئلہ صرف ایک دن یا چند دن کا نہیں، بلکہ ایک سماجی رویے، انتظامی کمزوری اور قانون کی عملداری کا ہے۔
پتنگ بازی کو ’’حلال‘‘ قرار دینے کی منطق یہ پیش کی جارہی ہے کہ باریک تاروں اور مخصوص ضابطوں کے تحت اسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی باریک تار خطرے کو ختم کر دیتی ہے؟ موٹر سائیکل سواروں کی گردنوں پر کٹ لگنے سے بچانے کے لیے تاریں؟ اس پر مستزاد یہ کہ موٹر سائیکلوں پر لگے لوہے کے روڈ اور حفاظتی سلاخیں خود ایک چلتا پھرتا خطرہ ہیں۔
چھتوں پر بچوں کی حفاظت ایک اور سنگین سوال ہے۔ بسنت کے دنوں میں چھتیں کھیل کے میدان بن جاتی ہیں۔ بچے، نوجوان اور حتیٰ کہ بڑے بھی جوش میں حدیں پار کرجاتے ہیں۔ پھسلن، کمزور ریلنگ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ... کیا ان سب پر کوئی حقیقی نگرانی ممکن ہے؟ کیا ہر چھت پر کوئی ذمے دار کھڑا ہوگا؟ یا پھر حادثے کے بعد افسوس، تعزیتی بیانات اور انکوائری کمیٹیاں ہی ہمارا مقدر ہوں گی؟
سب سے بڑا تضاد ’’چند دن کی حلال پتنگ بازی‘‘ کے تصور میں پوشیدہ ہے۔ معاشرتی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ جس شے کو وقتی اجازت مل جائے، وہ عادت بن جاتی ہے۔ چند دن کے بعد کون یہ مانے گا کہ اب پتنگ بازی دوبارہ ’’حرام‘‘ ہوگئی ہے؟ جو بازار کھل گئے، جو سپلائی چین متحرک ہوگئی، جو شوق دوبارہ جاگ گیا، کیا وہ اچانک رک جائے گا؟ ماضی کا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ نہیں۔
پھر قانون کا سوال آتا ہے۔ اگر پابندی کے بعد بھی پتنگ بازی جاری رہی تو مقدمات کس بنیاد پر درج ہوں گے؟ کون فیصلہ کرے گا کہ یہ حلال پتنگ ہے یا حرام؟ کیا پولیس کے پاس اتنی مہارت، وقت اور نیت ہے کہ وہ ہر گلی، ہر چھت اور ہر تار کی جانچ کرے؟ یا پھر یہ اختیار صوابدیدی بن جائے گا، جہاں کہیں نرمی اور کہیں سختی، کہیں رشوت اور کہیں سیاسی دباؤ غالب آجائے گا؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ بسنت کے نام پر ایک مخصوص مافیا ہمیشہ سے سرگرم رہا ہے۔ کیمیکل ڈور، خفیہ گودام، رات کی فروخت، یہ سب اچانک ختم نہیں ہوجاتے۔ چند دن کی اجازت دراصل اس مافیا کےلیے ایک سنہری موقع بن سکتی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک کو دوبارہ مضبوط کرے، اور پابندی کے بعد بھی کھیل جاری رکھے۔
ثقافت کا سوال اپنی جگہ، مگر کیا کوئی تہوار انسانی جان سے بڑا ہوسکتا ہے؟ دنیا کے بڑے شہروں میں تہوار منائے جاتے ہیں، مگر وہاں شہری منصوبہ بندی، قانون کی عملداری اور عوامی شعور بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ لاہور میں مسئلہ صرف بسنت نہیں، بلکہ یہ سوال ہے کہ ہم بطور معاشرہ نظم و ضبط کو کتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
اگر واقعی حکومت سنجیدہ ہے تو اسے محض اجازت دینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ واضح، قابلِ عمل اور سخت ضابطے، حقیقی نگرانی، فوری سزا کا نظام، اور سب سے بڑھ کر عوامی آگاہی ضروری ہے۔ ورنہ ’’حلال پتنگ بازی‘‘ کا نعرہ محض ایک خوبصورت عنوان بن کر رہ جائے گا، اور اس کے نیچے وہی پرانی کہانی دہرائی جائے گی، زخم، جنازے اور چند دن بعد خاموشی۔
آخر میں سوال سادہ ہے، کیا ہم ایک بار پھر وہی غلطی دہرانا چاہتے ہیں؟ یا ہم نے ماضی سے کچھ سیکھا ہے؟ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر فیصلوں میں جذبات نہیں، عقل اور ذمے داری کو جگہ دینا ہوگی۔ کیونکہ شہر رنگوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں اور انسانوں کی جان کسی بھی تہوار سے زیادہ قیمتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل