Wednesday, February 11, 2026
 

مستونگ جیل سے فرار 6 قیدیوں کی رضاکارانہ واپسی

 



بلوچستان میں 31 جنوری کو دہشت گردوں کے حملوں کے دوران مستونگ سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے 6 قیدیوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سمیت مسلح گروپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے اور اس دوران مستونگ شہر میں قائم سینٹرل جیل پر بھی شدید حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جیل انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حملہ آوروں نے جیل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، عملے کو یرغمال بنایا، تالے توڑے اور تقریباً 27 قیدیوں کو فرار کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے دوران جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ جیل کے ایک حصے کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ یہ حملے بلوچستان کے متعدد اضلاع بشمول نوشکی، مستونگ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں تقریباً ایک ہی وقت میں کیے گئے تھے، جن میں پولیس تھانوں، سرکاری دفاتر، بینکوں اور سیکیورٹی فورسز کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مستونگ جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں دہشت گردی، قتل، منشیات اور دیگر سنگین الزامات کے مقدمات درج تھے۔ ایکسپریس نیوز کو جیل ذرائع نے بتایا کہ تازہ ترین پیش رفت میں فرار ہونے والے 6 قیدیوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کر دیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق یہ قیدیوں کو مستونگ جیل کی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ان کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ فرار کے دوران پیش آنے والے حالات، ممکنہ مدد اور دیگر تفصیلات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ قیدیوں کے فرار کے پورے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں جیل کی سیکیورٹی میں خامیوں، حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا تجزیہ شامل ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے باقی فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی جلد گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان میں سیکیورٹی صورت حال کی نزاکت کو ایک بار پھر اجاگر کر رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والے دیگر قیدیوں کو بھی جلد پکڑ لیا جائے گا تاکہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل