Wednesday, February 11, 2026
 

لاہور سفاری زو میں ننھے شیروں کی دھوم، پہلی بار شیر کے بچوں کا سب سے بڑا گروپ تیار

 



لاہور سفاری زو میں پہلی بار شیر کے بچوں کا سب سے بڑا گروپ تیار کیا گیا ہے، جس میں 10 نر اور مادہ شامل ہیں۔ یہ بچے ان دنوں سفاری پارک آنے والے شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ لاہور سفاری زو کی انتظامیہ کے مطابق بگ کیٹس کی افزائشِ نسل کی شرح میں حالیہ برسوں کے دوران بہتری آئی ہے، جس کے باعث ہر سیزن میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر مادہ شیرنیاں اپنے نوزائیدہ بچوں کو قبول نہیں کرتیں، جس سے ان کی اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کو ہینڈ کیئر میں لے کر مصنوعی دودھ کے ذریعے پرورش کی جاتی ہے تاکہ ان کی بقا کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔   ویٹرنری سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان خان نے بتایا کہ جن بچوں کو ان کی مائیں قبول کر لیتی ہیں انہیں وہیں رکھا جاتا ہے، تاہم جنہیں مسترد کر دیا جائے انہیں فوری طور پر علیحدہ کر کے خصوصی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق شدید سردی اور گرمی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رضوان خان نے کہا کہ ماضی میں نوزائیدہ بچوں کو عموماً اسی جوڑے کے پاس رکھا جاتا تھا، اور اگر ہینڈ کیئر کی ضرورت پڑتی تو ایک یا دو بچوں کی پرورش کی جاتی تھی۔ تاہم بیرونِ ملک کے تجربات اور مطالعات کے بعد حکمت عملی تبدیل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر نوزائیدہ بچوں کو گروپ کی صورت میں رکھا جائے تو وہ زیادہ متحرک رہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے اور دوڑتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔ لاہور سفاری زو کی ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر آمنہ فیاض کے مطابق جب بچوں کو ماں سے الگ کر کے خصوصی نگہداشت میں رکھا جاتا ہے تو سب سے پہلے ان کی غذائی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ ابتدائی دو ماہ تک انہیں خصوصی فارمولا دودھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خوراک میں بتدریج گوشت شامل کیا جاتا ہے۔ چار ماہ کی عمر میں بچوں کو گروپوں کی شکل میں الگ انکلوژرز میں منتقل کیا جاتا ہے، اور گروپنگ کامیاب ہونے کی صورت میں انہیں لائن سفاری میں بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سفاری زو میں شیرکے بچوں کا سب سے بڑا گروپ ہے جس میں تین نر اور سات مادہ شیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری میں شیر کے بچوں میں ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری کا مسئلہ ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں باقاعدہ ورزش کرائی جاتی ہے اور دھوپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ قدرتی نشوونما میں مدد ملے۔ ابتدائی چند ماہ کے دوران بچے ایک دوسرے کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتے، اس لیے انہیں اجتماعی طور پر رکھا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب میں اس وقت کیپٹویٹی میں بگ کیٹس کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔ سرکاری چڑیا گھروں اور سفاری پارکس کے علاوہ نجی کیپٹویٹی میں بھی بگ کیٹس کی تعداد تقریباً 700 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حالیہ دنوں نجی کیپٹویٹی میں بگ کیٹس رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل