Wednesday, February 11, 2026
 

سونے کے ایکس چینج ٹریڈنگ فنڈ پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، چیف ایگزیکٹو پاکستان اسٹاک ایکس چینج

 



پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2026 میں یو آئی این نمبر 23 ہزار 400 کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی کے حوالے سے تھرڈ پارٹی کے ذریعے ڈیٹا وینڈنگ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سونے کے ایکس چینج ٹریڈنگ فنڈ پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کموڈٹیز پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ فرخ سبزواری کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ٹی پلس ون سے متعلق اقدامات ایک سال سے جاری تھے اور گزشتہ 25 سال میں ٹی پلس فائیو سے ٹی پلس ون تک پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی پلس ون کے پہلے سودوں کا کامیابی کے ساتھ تصفیہ ہو چکا ہے، جس کے لیے پاکستان اسٹاک ایکس چینج، ایس ای سی پی، این سی سی پی ایل اور سی ڈی سی کی ٹیموں نے مل کر کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی پلس ون سیٹلمنٹ کی بدولت انویسٹرز کو لین دین کے اگلے ہی دن ڈلیوری مل جائے گی، تصفیوں میں تاخیر کم ہونے سے کریڈٹ رسک میں کمی اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا، جبکہ ٹرانزیکشنز کی جلد تکمیل سے انویسٹرز کو اپنے فنڈز اور سیکیورٹیز تک فوری رسائی حاصل ہو گی۔ ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سے کیپیٹل مارکیٹ میں سرمائے کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا، چین، کینیڈا، بھارت، میکسیکو، جمیکا اور ارجنٹائن پہلے ہی ٹی پلس ون نظام اپنا چکے ہیں۔ این سی سی پی ایل کے چیف ایگزیکٹو نوید قاضی نے کہا کہ پاکستان ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سائیکل پر جانے والا آٹھواں ملک بن گیا ہے، جبکہ متعدد یورپی ممالک 2027 تک ٹی پلس ون میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق ٹی پلس ون سے مارکیٹ کی کارکردگی اور سرمائے کے بہاؤ میں بہتری آئے گی اور شیئرز کی سیٹلمنٹ میں خدشات کم سے کم ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی پلس ون کے لیے ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک سمیت درجنوں اداروں کی معاونت شامل رہی۔ ابتدائی مرحلے میں 93 کروڑ 10 لاکھ شیئرز کی لین دین ہوئی، مالیت 60 ارب روپے تھی جبکہ نیٹ آف مالیت 20 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ سی ای او سینٹرل ڈپازٹری کمپنی بدیع الدین اکبر نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج اگرچہ ایک چھوٹی مارکیٹ ہے تاہم عالمی معیارات کے مطابق ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی سی کے پاس سیکیورٹیز کی مد میں 16 ہزار ارب روپے کے اثاثے ہیں، جبکہ میوچل فنڈز کے 4500 ارب روپے کے اثاثے بھی سی ڈی سی کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق سی ڈی سی نے ٹی پلس ون سیٹلمنٹ کے تحت 48 گھنٹوں میں ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔ سوالات کے جواب میں نوید قاضی نے کہا کہ ٹی پلس زیرو کے لیے آئی ٹی میں بھرپور جدت لانا ہو گی، چین کی کیپیٹل مارکیٹس جزوی طور پر ٹی پلس زیرو پر منتقل ہو چکی ہیں، جبکہ سیٹلمنٹ سائیکل کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے پیمنٹ سسٹم میں جدت لانا ہو گی۔ سوالات کے جواب میں فرخ سبزواری نے بتایا کہ رواں سال پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 12 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہونے جا رہی ہے، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج نے ورلڈ فیڈریشن آف ایکسچینجز کی مکمل ممبرشپ بھی حاصل کر لی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل