Monday, March 09, 2026
 

طلاق کا معاملہ سوشل میڈیا پر لانے پر عمر بٹ کی رجب بٹ پر تنقید

 



معروف ڈیجیٹل کریئیٹر اور ٹک ٹاکر عمر بٹ نے رجب بٹ کی جانب سے اپنی اہلیہ کے طلاق کے معاملے کو سوشل میڈیا پر لانے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آن لائن تماشا کیوں لگارکھا ہے۔  رجب بٹ ایک معروف پاکستانی یوٹیوبر ہیں جو اس وقت اپنی اہلیہ ایمان رجب سے علیحدگی اور ٹوٹتی شادی کے باعث ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر خبروں میں ہیں۔ دونوں کے درمیان معاملات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ رجب بٹ خود بھی اس معاملے پر کھل کر بات کر رہے ہیں جب کہ ایمان کی جانب سے ان کے بھائی عون سوشل میڈیا پر مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو جواب دے رہے ہیں جس کی وجہ سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب دیگر ڈیجیٹل کریئیٹرز بھی اس بات پر رائے دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی مسائل کو سوشل میڈیا پر کیوں لے آئے ہیں۔ اسی حوالے سے عمر بٹ نے بھی رجب بٹ اور ایمان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ معروف ڈیجیٹل کریئیٹر عمر بٹ نے ایک مشترکہ دوست سے اپیل کی کہ وہ رجب بٹ کو کہیں کہ وہ اپنی علیحدگی کے معاملے کو سوشل میڈیا پر پبلک نہ کریں۔ عمر بٹ نے کہا کہ انہیں کہیں کہ اپنے ذاتی مسائل سوشل میڈیا سے باہر حل کریں اور ان سے پوچھیں کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ تماشا کیوں لگا رکھا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ انہیں چاہیے کہ بیٹھ کر آپس میں اپنے مسائل خود حل کریں اور یہ معاملہ نجی رکھیں کیونکہ پوری دنیا اس پر بات کر رہی ہے اور ان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ عمر بٹ نے مزید کہا کہ براہِ کرم انہیں (رجب بٹ اور ان کے خاندان کو) کہیں کہ اپنے معاملات نجی طور پر حل کریں اور ذاتی مسائل کو چھپا کر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اپنے مسائل حل نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، مگر کم از کم انہیں گھر کے اندر ہی نمٹائیں جب کہ عون بھی اتنا ہی قصوروار ہے، پہلے میں سمجھتا تھا کہ وہ سمجھدار لڑکا ہے، لیکن وہ بھی ویسا ہی نکلا۔ یوٹیوبر نے کہا کہ وہ اپنی بہن کی ذاتی ازدواجی زندگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات کر کے غلط کر رہا ہے۔ بھائی، آرام سے رہو، یہ تمہاری بہن کا ازدواجی مسئلہ ہے، اسے سوشل میڈیا سے باہر حل کرو۔ دونوں ہی غلط ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل