Loading
پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹ تیار ہو چکی ہے اور اسے عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے، ساتھ ہی اپنی رائے بھی پیش کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر درخواست گزار کو رپورٹ پر کوئی اعتراض ہے تو وہ آئندہ سماعت پر دلائل دے سکتا ہے۔
سماعت کے دوران جج ولی محمد نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار وکیل کی غیر موجودگی میں کیس سننا مناسب نہیں، اس لیے ان کا انتظار کیا جائے تاکہ بعد میں اعتراض نہ اٹھایا جائے۔
عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ معمول کے مطابق عدالتوں میں آتے رہتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار وکیل کے پیش ہونے تک سماعت ملتوی کر دی۔
دوبارہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر کا کردار صرف ٹرائل تک محدود ہوتا ہے اور وہ تفتیش نہیں کر سکتے، جبکہ تفتیش کا اختیار ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے پاس ہوتا ہے۔
اس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل نے مؤقف اپنایا کہ انہیں اسی کیس کے لیے تعینات کیا گیا ہے اور عدالت نے صرف رپورٹ طلب کی تھی جو جمع کرا دی گئی ہے، چالان جمع کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔
عدالت کے حکم پر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر صفت اللہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے بعد ان کا کردار ختم ہو جاتا ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی قانون کے سیکشن 18 کے تحت حکومت کو اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ توہین عدالت کی درخواست بھی قابل سماعت نہیں۔
جج ولی محمد نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی فریق کو اعتراض ہے تو وہ باقاعدہ درخواست دائر کرے، جس کے بعد عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل