Loading
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے معاملات سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان نے حال ہی میں جو کردار ادا کیا ہے ہم برسوں اس کے متقاضی تھے ہماری جدوجہد رنگ لے آئی، ہم پاکستان کو اسی مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔
مولانا نے مزید کہا کہ یہ حکومت دھاندلی سے لی گئی ہے ایسی حکومت کو میں مانتا ہوں نہ ہی اس کی پیروی کروں گا جس طرح جعلی نوٹ نہیں چلتا اسی طرح جعلی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔سب کو معلوم ہے کہ ملک میں جعلی نوٹ بھی چل رہے ہیں اور دو سال سے یہ حکومت بھی جسے جعلی قرار دیا جا رہا ہے، اسی حکومت نے دنیا میں پاکستان کو یہ مقام دلایا ہے جس مقام کی آرزو کی جا رہی تھی اور مولانا پاکستان کی صلاحیت کے معترف بھی ہوگئے ہیں مگر اس حکومت کو نہیں مان رہے جو دو سال سے ملک چلا رہی ہے اور موجودہ حکمران ہی پاکستان کو اس مقام پر لے آئے ہیں کہ جن کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی اسی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے جن کی کوشش سے پاکستان اس قابل ہوا کہ اس نے اسلام آباد بلا کر امریکا و ایران کو آمنے سامنے بٹھا کر ثالثی کا کردار ادا کیا جسے مولانا سمیت دنیا سراہ رہی ہے۔
ملک دشمنوں بھارت، اسرائیل و دیگر کے علاوہ جہاں پاکستان کی تعریفیں ہو رہی ہیں وہاں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں جنھیں اب بھی جعلی قرار دیا جا رہا ہے، کے اقدامات اور صلاحیتوں کو بھی نہ صرف سراہا گیا بلکہ بیرون ملک سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس بہترین کارکردگی پر پاکستان کو اس مقام تک لانے والے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جائے جن کی صلاحیتوں کا اعتراف امریکی صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت باربار کر چکی ہے۔
پاکستان کی صلاحیت کو تسلیم تو کیا جا رہا ہے، مگر پی ٹی آئی کے نااندیش بعض مرکزی رہنماؤں کو اس سلسلے میں پاکستان کی تعریف تو کیا نام لینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی تھی مگر عالمی سطح پر مقبولیت ملنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت بعض محب وطن رہنماؤں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انھوں نے بھی پاکستان کو سراہا مگر پاکستانی حکمرانوں کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا، نہ ان کی کاوشوں کو سراہا۔دنیا بھر میں امریکا و ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے رضامند کرنے اور دونوں ملکوں کو جن میں ایک جارح اور دوسرا مظلوم مانا گیا ،ایک میز پر لا بٹھانے کا سہرا پاکستانی حکمرانوں کے سر ہے کہ جنھوں نے اپنی دن و رات کی محنت سے پاکستان کو یہ مقام دلایا کہ جس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے۔
اسی سلسلے میں محمود خان اچکزئی نے بھی قومی اسمبلی میں جو بیان دیا وہ قابل ستائش کہلایا مگر چند ایک نے قومی اسمبلی میں جو خطاب کیا اس کی صرف مذمت ہی کی جا سکتی ہے۔ جے یو آئی، پی ٹی آئی اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں دونوں اپوزیشن لیڈروں میں صرف محمود خان اچکزئی نے حق بات کی اور حکومت کو اپنی حمایت کا بھی یقین دلایا مگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ حکمرانوں کے کسی اچھے اقدام کو ہی سراہ لیتے جب کہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دشمن بھی درست بات کرے تو اس کی حمایت ہونی چاہیے جیسے کہ بھارت میں ہوا۔ جہاں پاکستان کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کی سفارتی کاوشوں کی تعریف اور اپنی حکومت پر تنقید کی گئی مگر پاکستانی اپوزیشن اپنی سیاسی مخالفت میں یہ بھی نہ کرسکی۔
یہ سو فی صد درست ہے کہ ملک ہوتا ہے تو اسے چلانے والے حکمران بھی ہوتے ہیں جو جمہوری ہوں یا غیر جمہوری۔ امریکا کے صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو دنیا منتخب حکمران مانتی ہے جنھوں نے اپنے ممالک کو دنیا میں جارح کے طور پر بدنام کرایا جن کی دنیا میں مذمت بھی ہو رہی ہے جن کے خلاف دونوں ممالک میں احتجاج بھی ہو رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے حکمرانوں کے فیصلے درست نہیں جب کہ پاکستانی حکمرانوں نے درست فیصلے کیے جن کی حمایت اور تعریف اندرون ملک اور عالمی سطح پر ہوئی مگر محض سیاسی مخالفت اور اقتدار سے محرومی کے شکار ملکی سیاستدانوں میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہیں کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کو یہ کریڈٹ دیتے کہ جن کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کو اہمیت ملی اور پاکستان پر دنیا کی نظریں مرکوز رہیں اور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستان کا ذکر نہ ہوا ہو۔دنیا بھر میں ملک مختلف وجوہات کے باعث ہی وجود میں آئے جنھیں وہاں کے حکمران چلا رہے ہیں کیونکہ ملک خود نہیں چلتے بلکہ چلانے والے چلاتے ہیں جو حکمران کہلاتے ہیں اور ملک کی اچھائی و برائی کے ذمے دار وہاں کے حکمران ہوتے ہیں مگر نام ملک کا متاثر ہوتا ہے اور حکمرانوں کی دور اندیشی، اچھی حکمرانی، درست فیصلے اور باصلاحیت قیادت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور پاکستانی حکمرانوں نے اس کا ثبوت دے دیا ہے جن کی صلاحیتوں نے پاکستان کو یہ عالمی مقام دلایا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ امریکی صدر انھیں فون کرتے ہیں نہ بھارتی وزیر اعظم ان کی کال سنتا ہے جو ان کی مکمل نااہلی کا واضح ثبوت ہے جب کہ آج تمام بڑے اور اہم ممالک پاکستانی حکمرانوں کو فون کر رہے ہیں، یہ پاکستانی حکمرانوں کی صلاحیتوں کے باعث ممکن ہوا اور ان کے اقدامات کو دنیا میں پذیرائی اور پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت و شہرت حاصل ہوئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل