Loading
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا-اسرائیل-ایران جنگ خطے کی معاشی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دے گی اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کیا اور آئی ایم ایف کی اپریل 2026 کی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی۔
ڈاکٹرماہیر بینیجی نے بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے ایک شدید اور ہمہ جہتی معاشی جھٹکا دیا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی منڈیاں، تجارتی راستے اور مالیاتی حالات متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باعث عالمی ترسیل کے نظام، خوراک اور کھاد کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے خطے میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مزید تنزلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ تنازع پہلے سے موجود معاشی کمزوریوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔
ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سبسڈیز کے بجائے ہدفی اور عارضی اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر درست سمت میں جاری ہے اور واضح کیا کہ پاکستان کے لیے پالیسی ترجیحات میں محتاط مالیاتی حکمت عملی، اعداد و شمار کی بنیاد پر سخت مانیٹری پالیسی اور ساختی اصلاحات کا تسلسل شامل ہونا چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے تجارتی راستوں میں تنوع، اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، علاقائی تعاون کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات کے عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
قبل ازیں آ ئی ایم ایف کے نمائندے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ اکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اس نشست کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورت حال اور اس کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلی قسط فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے سے مشروط ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات، خصوصاً کیپیسٹی پیمنٹس سے متعلق مذاکرات اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پالیسی سطح پر بروقت اور ہدفی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل