Loading
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پیسیفک اوشین پر پکڑے گئے مبینہ طور پر ایران سے منسلک آئل کے حوالے سے پہلی بار بیان جاری کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس اور بعد ازاں امریکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے کل ایک جہاز پکڑا جس پر کچھ ایسی چیزیں تھیں جو اچھی نہیں تھیں۔ شاید یہ چین کی طرف سے بھیجا گیا تحفہ تھا، مجھے معلوم نہیں۔
تاہم صدر نے جہاز سے ملنے والے مواد اور اپنے دعوے کے مطابق چینی تحفے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پکڑے گئے جہاز کے چین سے تعلق پر حیرت ہوئی کیونکہ میرے صدر شی جنپنگ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ ہم دونوں میں کئی باتوں پر اتفاق ہے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی انٹیلی جنس نے بتایا تھا کہ چین آئندہ ہفتوں میں ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس تناظر میں صدر ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم منگل کے روز ٹرمپ کے لہجے میں کسی حد تک نرمی بھی دیکھی گئی جب انہوں نے کہا کہ جنگ میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کا آئندہ ماہ چین کا دورہ بھی متوقع ہے جہاں ممکنہ طور پر اس معاملے پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایشیا پیسیفک میں آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا جس پر پابندی تھی اور وہ ایران سے منسلک تھا۔ ایران کی جانب سے تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل